English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جرمن قانون سازوں نے مہاجرین مخالف بل مسترد کردیا

جرمنی: اپوزیشن جماعت سی ڈی یو کے رہنما فریڈرک مرز ناکامی پر منہ لٹکائے بیٹھے ہیں

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمن قانون سازوں نے حزب اختلاف کی قدامت پسند جماعتوں کی جانب سے تارکین وطن پر پابندی کا بل مسترد کردیا۔ اس بل کو انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی کی حمایت حاصل تھی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق سی ڈی یو اور سی ایس یو کے قدامت پسند ارکان نے بدھ کے روز اے ایف ڈی کی حمایت سے امیگریشن کریک ڈاؤن کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی تھی۔ اس اقدام کو انتہا پسندوں کے خلاف دیرینہ سیاسی فائر وال کی خلاف ورزی کرنے پر وسیع پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ جرمن قانون ساز اسمبلی بنڈس ٹاگ میں مکمل قانون کی منظوری کے لیے ووٹنگ کی گئی،جس میں متنازع بل حق میں 338، مخالفت میں 350 ووٹ دیے گئے اور 5 قانون سازوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ حکمراں سوشل ڈیموکریٹس اور گرینز کی جانب سے نتائج کا خیرمقدم کیا گیا، جو اس بل کی مخالفت کرنے والی سب سے بڑی جماعتیں تھیں۔ اس موقع پر سی ڈی یو، سی ایس یو اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو سمجھوتا طے کرنے کے لیے مذاکرات کی اجازت دی گئی،جس کی ناکامی کے بعد ووٹنگ منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھی۔ اے ایف ڈی کی رہنما ایلس ویڈیل نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ نتیجہ سی ڈی یو کے سربراہ فریڈرک مرز کے لیے شکست ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امیگریشن کو محدود کرنے والے اقدامات کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔ یاد رہے کہ سی ڈی یو کے سربراہ فریڈرک مرز نے ووٹنگ سے قبل انتہائی دائیں بازو (اے ایف ڈی) کی حمایت سے بل منظور کرنے کا وعدہ کیا تھا ، جس کی وجہ سے مختلف شہروں میں سڑکوں پر احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ پارلیمان میں ارکان پارلیمان کے درمیان تلخ کلامی کے بعد بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے چانسلر اولف شولس نے خبردار کیا کہ فریڈرک مرز پر اب اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ قدامت پسند امیدوار مستقبل میں اے ایف ڈی کو مخلوط حکومت بنانے کی دعوت دے سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے