واشنگٹن:فلسطین پر قابض صہیونی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی دورے کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے میزبان کو ایک منفرد مگر متنازع تحفہ دے کر نفرت اور اشتعال انگیزی کا کھلا مظاہرہ کیا۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو 2پیجرز بطور تحفہ پیش کیے، جن میں سے ایک سنہری اور دوسرا عام پیجر تھا۔ یہ تحفہ محض رسمی نہیں تھا بلکہ اس کے پس پردہ ایک اشتعال انگیز پیغام بھی چھپا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ماضی میں اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں نے ایسے ہی پیجرز میں بارودی مواد نصب کرکے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف حملے کیے تھے۔ ان حملوں میں کئی افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے اس تحفے کو سراہا اور اسرائیلی ایجنسیوں کے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے طریقہ کار کی تعریف کی۔
واضح رہے کہ اسرائیل پر پہلے بھی حزب اللہ سے وابستہ افراد کے زیر استعمال واکی ٹاکی اور موبائل فونز میں بارودی مواد نصب کرکے دھماکے کرنے کے الزامات لگ چکے ہیں، جن میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ اسرائیل نے ان الزامات کی تردید نہیں کی تھی، جب کہ عالمی سطح پر اس کے ان اقدامات پر شدید تنقید ہوئی تھی۔

