اسلام آباد: پاکستان میں حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد قدومی کاکہنا ہے کہ ٹرمپ کی مداخلت اور دباؤ قبول نہیں کریں گے، غزہ پہلے سے زیادہ مضبوط بن کر اٹھے گا۔
تنظیم اسلامی کے زیر اہتمام سیمینار سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے خالد قدومی نے کہا کہ غزہ دوبارہ بنے گا، امریکی صدرکی جانب سے اسرائیل کو قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا، ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جنگ نہیں صلح کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم اپنے حقوق کا سودا نہیں کریں گے، اسرائیلی فوج کو غزہ کی سرزمین سے واپس جانا پڑے گا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کی پٹی پر طویل عرصے تک قبضہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پس منظر
غزہ کی پٹی مشرق وسطیٰ میں ایک اہم اور حساس خطہ ہے، جو فلسطینیوں کے زیرِانتظام ہے لیکن اسرائیل کے محاصرے میں تھا، 2007 سے یہاں اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کی حکومت ہے، جسے اسرائیل اور امریکا دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں جبکہ دونوں ریاستیں دنیا بھر میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں، عالمی ادارے بھی ان کی دہشت گردی پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان متعدد جنگیں ہوچکی ہیں، جن میں ہزاروں فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہو چکے ہیں، حالیہ برسوں میں اسرائیل نے غزہ پر کئی حملے کیے، جنہیں حماس نے مزاحمت کے ذریعے پسپا کیا۔

