English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا نے جی20اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جی 20 اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ۔ چند دن قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی افریقا کو دی جانے والی مالی امداد بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ خبررساں اداروں کے مطابق جنوبی افریقا 20 سے 21 فروری تک جوہانسبرگ میں جی 20 کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کرکے۔ اس سے قبل افریقی ملک کو دسمبر 2024 جی 20کی صدارت دی گئی تھی،جو نومبر 2025 تک جاری رہے گی۔ اس سے قبل ٹرمپ نے اتوار کے روز بغیر کسی ثبوت کے کہا تھا کہ جنوبی افریقا زمین ضبط کر رہا ہے اورکچھ طبقوں کے لوگوںکے ساتھ بہت برا سلوک کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات ہونے تک فنڈنگ روک دیں گے۔ جنوبی افریقی صدر سیرل رامافوسا نے ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ملکی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کوئی زمین ضبط نہیں کی ۔ پالیسی کا مقصد زمین تک عوام کی مساوی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ ٹرمپ کی تقلید میں مارکو روبیو نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کوئی تفصیل دیے بغیر الزام لگایا کہ جنوبی افریقا اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے جی 20 کا استعمال کر رہا ہے۔ جنوبی افریقا میں پیدا ہونے والے ارب پتی ایلون مسک نے بھی بغیر ثبوت کے جنوبی افریقا پرکھلے عام نسل پرستانہ ملکیت کے قوانین رکھنے کا الزام لگایا اور کہا کہ سفید فام لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نوآبادیاتی اور نسلی عصبیت کے سیاہ دور (1948 ء تا 1990ء ) میں سیاہ فام افریقیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کر دیا گیا تھا اور اس پالیسی کے تحت انہیں جائداد کے حق سے محروم کر دیا گیا تھا۔ جنوبی افریقا میں سیاہ فام آبادی 80 فی صد ہے جب کہ سفید فام صرف 8 فی صد ہیں لیکن اس کے باوجود سفید فام زمینداروں کے پاس اب بھی جنوبی افریقا کی فری ہولڈ فارم لینڈ کا تین چوتھائی ہے، جب کہ لینڈ آڈٹ کے مطابق سیاہ فام لوگوں کی ملکیت صرف 4 فی صد ہے۔اس عدم توازن کو جزوی طور پر دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے صدر راما فوسا نے گزشتہ ماہ ایک قانون پر دستخط کیے تھے جس سے ریاست کو عوامی مفاد میں زمین ضبط کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے