آسٹریلیا اور ایک ڈاکٹر اور نرس کی وڈیو نے ہنگامہ برپا کردیا ہے۔ مسلم ڈاکٹر اور نرس نے کہا ہے کہ وہ یہودی مریضوں کا علاج نہیں کریں گے۔ وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے اس وڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم اپنے ملک میں کیسے کیسے لوگوں کو آنے دے رہے ہیں۔
ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ وہ یہودی مریضوں کو قتل کرچکا ہے جبکہ نرس کہتی ہے کہ وہ یہودی مریضوں کی نگہداشت نہیں کرے گی۔ دونوں ہیلتھ ورکرز کا تعلق نیو ساؤتھ ویلز سے ہے۔ وزیرِاعظم انتھونی البانیز کا کہنا ہے کہ طب جیسے اہم شعبے میں کسی بھی انسان سے اُس کے مذہب، رنگ، نسل، ثقافت یا زبان کی بنیاد پر نفرت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ طب کے شعبے میں ہر پروفیشنل کو غیر معمولی ذمہ داریاں نبھانا پڑتی ہیں۔
وڈیو کے وائرل ہوتے ہی ہر طرف سے شدید نکتہ چینی کی جانے لگی۔ سوشل میڈیا پر اس وڈیو میں دکھائی دینے والے ڈاکٹر اور نرس پر زبردست لعن طعن کی جارہی ہے۔ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اِن دونوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے۔
نرس نے بھی کہا کہ وہ کسی بھی یہودی مریض کا علاج کرنے کے بجائے اُسے قتل کرنا پسند کرے گی۔ ڈاکٹر نے دعوٰی کیا کہ اُس نے کئی یہودی مریضوں کو جہنم رسید کیا ہے۔ اس خطرناک بیان کے بعد آسٹریلیا میں تہلکہ مچ گیا ہے۔

