دنیا بھر میں ایسے نوجوانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جو اپنے ملک سے بیزار ہیں اور کسی ترقی یافتہ ملک میں آباد ہونا اور کام کرنا چاہتے ہیں۔ امریکا، کینیڈا، یورپ، آسٹریلیا، جاپان، چین اور جنوبی کوریا کا رخ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
بھارت اور پاکستان جیسے پس ماندہ ممالک سے امریکا، کینیڈا اور یورپ کا رخ کرنے والوں کی تعداد میں بھی بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پانچ سال کے دوران ایسے بھارتی باشندوں کی تعداد میں 47 فیصد اضافہ ہوا ہے جو امریکا میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ امریکی حکام کہتے ہیں کہ سیاسی پناہ کی بیشتر درخواستیں غلط بیانی پر مبنی ہوتی ہیں۔ چھان پھٹک کے بعد سیاسی پناہ کی بیشتر درخواستیں مسترد کردی جاتی ہیں۔ یہی معاملہ بھارتی باشندوں کا بھی ہے۔ مختلف معاملات میں جھوٹ بول کر سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرانے کا رجحان یورپ اور کینیڈا میں بھی عام ہے۔
پاکستان سے بھی بہت سے لوگ کسی نہ کسی طور امریکا پہنچ کر سیاسی پناہ کی درخواست دائر کرتے ہیں اور بالعموم جھوٹ ہی کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسی بیشتر پاکستانی درخواستیں بھی مسترد ہی کردی جاتی ہیں۔
کینیڈا، یورپ، آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی غیر قانونی تارکینِ وطن کی طرف سے سیاسی پناہ کی درخواستوں کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ ایسی درخواستوں کو نپٹانے میں کئی سال لگ جاتے ہیں اور تب تک غیر قانونی تارکینِ وطن کسی نہ کسی طور کام بھی کرتے ہیں اور اچھی خاصی کمائی اپنے وطن بھی بھیجتے ہیں۔

