English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکہ کا بھارت کو ایف 35 لڑاکا طیاروں کی فراہمی کا عندیہ

ویب ڈیسک _ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت کو رواں برس سے ہی دفاعی سازو سامان کی فروخت بڑھا دی جائے گی اور پھر نئی دہلی کو لڑاکا طیارے ایف 35 بھی فراہم کیے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم بھارت کو اربوں ڈالر کا دفاعی سازوسامان فروخت کریں گے جس کے نتیجے میں اسٹیلتھ لڑاکا طیارے ایف 35 کی فراہمی کی راہ ہموار ہو گی۔

امریکہ سے ایف 35 طیارہ خریدنے کی چند ہی ملکوں کو اجازت ہے جن میں اسرائیل، جاپان اور مغربی ملکوں کے عسکری اتحاد نیٹو شامل ممالک ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کا حامل یہ طیارہ ہدف کو مہارت سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو یہ طیارے ملنے سے اس کی دفاعی قوت میں مزید اضافہ ہوگا۔

تاہم صدر ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ بھارت کو ایف 35 طیارے کب فراہم کیے جائیں گے۔

امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق بھارت اپنی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے آئندہ ایک دہائی کے دوران 200 ارب ڈالر خرچ کرے گا۔

صدر ٹرمپ اور وزیرِ اعظم مودی کی پریس کانفرنس کے بعد نئی دہلی میں بھارت کے سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے صحافیوں سے گفتگو کی۔ جب اُن سے ایف 35 کی خریداری اور صدر ٹرمپ کے اعلان سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ابھی تجویز کے مرحلے میں ہے۔




ایف 35 لڑاکا طیارے بنانے والی امریکی کمپنی لوک ہیڈ مارٹن کا کہنا ہے کہ بھارت کو اسٹیلتھ ایف 35 طیاروں کی کسی بھی قسم کی فروخت کا معاملہ دونوں حکومتوں کی سطح پر بات چیت کے بعد ہو گا۔

واضح رہے کہ امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگان ڈیفنس کانٹریکٹر اور غیر ملکی حکومت کے درمیان مذاکرات کار کا کردار ادا کرتا ہے اور ایف 35 طیاروں کی فروخت محدود اور اتحادی ممالک کو ہی کی جاتی ہے۔

امریکی طیارہ و اسلحہ ساز کمپنی لوک ہیڈ مارٹن امریکہ سمیت برطانیہ، آسٹریلیا، اٹلی، ترکیہ، ناروے، نیدرلینڈز، اسرائیل، جاپان، جنوبی کوریا اور بیلجیم کے لیے ایف 35 طیاروں کے تین ماڈلز بنا رہی ہے۔


وائس آف امریکہ کے مطابق ان ممالک کے اشتراک میں امریکہ سمیت دوسرے ممالک بھی شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے مطابق ان ممالک کے اشتراک میں امریکہ سمیت دوسرے ممالک بھی شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں۔

لوک ہیڈ مارٹن نے ایف 35 ماڈل کے تین ویریئنٹ بنائے ہیں جن میں ایف 35 اے، ایف 35 بی اور ایف 35 سی شامل ہیں۔

ففتھ جنریشن کا یہ لڑاکا طیارہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل ہے جو ریڈار پر نظر نہیں آتا اور ریڈار جیم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ جدید سینسر فیوژن کنیکٹ سسٹم کی وجہ سے یہ ہوا میں دیگر طیاروں اور اپنے بیس کے ساتھ منسلک رہتا ہے۔

جدید کیمروں کی مدد سے دن اور رات میں ہر طرف نظر رکھنے والا یہ طیارہ ہر قسم کے وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس طیارے کی ایک خصوصیت جو اسے دیگر تمام لڑاکا طیاروں سے ممتاز کرتی ہے، وہ رن وے کے بغیر لینڈنگ اور ٹیک آف کی صلاحیت ہے۔

واشنگٹن میں واقع امیریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ سینئر فیلو سدآنند دھومے کہتے ہیں کہ روس اب بھی بھارت کے لیے ایک اہم فوجی ساز و سامان فراہم کرنے والا ملک ہے جب کہ نئی دہلی دفاعی ساز و سامان کے لیے فرانس اور اسرائیل پر بھی انحصار کرتا ہے۔

وائس آف امریکہ کی ارم عباسی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 10 برس قبل تک بھارت اپنی دفاعی ضروریات کا 70 فی صد سامان روس سے خریدتا تھا لیکن اب اس میں کافی حد تک کمی آئی ہے اور نئی دہلی تقریباً 25 فی صد دفاعی ضروریات ماسکو سے پوری کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی دفاعی قوت میں امریکہ کا حصہ بہت کم ہے اس لیے امریکہ یقینی طور پر چاہے گا کہ بھارتی دفاعی سامان میں امریکی حصہ زیادہ ہو اور یہ وہ معاملہ ہے جس پر صدر ٹرمپ کی حکومت مسلسل زور دے رہی ہے۔

اس خبر میں شامل بعض معلومات خبر رساں ادارے رائٹرز سے لی گئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے