English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ٹرمپ نے اب یوکرین کے معاملے میں گڑبڑ گھوٹالا شروع کردیا

Trump's first presidential address

امریکا اور روس نے یوکرین جنگ ختم کرنے کے حوالے سے سعودی عرب میں بات چیت چیت شروع کردی ہے۔ اس بات چیت میں امریکا کے وزیرِخارجہ مارکو روبیو اور اُن کے روسی ہم منصب سرگئی لاروف شریک ہیں۔ مذاکرات کی میز پر یوکرین کا کوئی نمائندہ ہے نہ یورپی یونین کا جس کے باعث مذاکرات کے نتیجے کی قانونی حیثیت کے حوالے سے ابھی سے شکوک و شبہات ابھر رہے ہیں۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن سے یوکرین جنگ کے بارے میں بات چیت کے لیے ملاقات کا عندیہ دیا ہے۔ یہ ملاقات ماہِ رواں میں کسی وقت ہوسکتی ہے۔ سعودی عرب میں ہونے والی بات چیت کے نتائج سامنے آنے پر فیصلہ ہوسکے گا کہ سربراہ ملاقات کب اور کہاں کی جائے۔

یوکرین جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کے لیے امریکی صدر نے چند تجاویز پیش کی ہیں جن کی رُو سے یوکرین پر امریکا کو زیادہ سے زیادہ تصرف حاصل ہوسکتا ہے۔ یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنسکی فی الحال ایسا کوئی معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں جس کے نتیجے میں امریکا یا کسی اور ملک کو یوکرین پر غیر معمولی تصرف حاصل ہو۔

امریکا نے یوکرین کو تعمیرِنو کے لیے 500 ارب ڈالر کے پیکیج کی پیشکش کی ہے۔ اس پیشکش کی رُو سے امریکا کو یوکرین کے تمام قدرتی وسائل پر غیر معمولی اور فیصلہ کن تصرف حاصل ہوگا اور وہ یوکرین کے قدرتی وسائل کی برآمدات پر بھی تصرف کا حامل ہوگا۔ یوکرین کے صدر زیلنسکی نے امریکی ڈیل کی پیشکش قبول کرنے سے معذرت کی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یوکرین اپنے قدرتی وسائل پر کسی بھی دوسرے ملک کا مکمل تصرف برداشت نہیں کرسکتا۔ جنگ ختم ہونے پر کچھ طے کیا جاسکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے