English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکی کارکنوں کی نصف تعداد مصنوعی ذہانت کے بارے میں فکرمند کیوں؟  سروے

ایک نئی تحقیق کے مطابق امریکی کارکنوں میں مصنوعی ذہانت کے اثرات کے بارے میں ملے جلے جذبات ہیں جس کا تعلق ان کے پیشسہ ورانہ کام پر اثر ات سے ہے۔

تحقیقی ادارے’ پیو ریسرچ سینٹر‘ کے مطابق 52 فیصد امریکی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے مستقبل کے اثرات کے بارے میں فکر لاحق ہے۔

حالیہ سروے کے مطابق 32 فیصد ملازمین کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت سے طویل مدت میں ان کے لئے ملازمت کے کم مواقع ہو جائیں گے۔

دوسری طرف 36 فیصد کارکنوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں کام کی جگہ پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں پرامید ہیں۔ 33 فیصد کہتے ہیں کہ وہ خود کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی وجہ سے دباؤ میں محسوس کرتے ہیں۔


aوپن اے آئی کا لوگو سیل فون پر, کمپیوٹر مانیٹر کی تصویر کے ساتھ دکھایا گیا ہے جو ChatGPT کے Dall-E ٹیکسٹ ٹو امیج ماڈل میں تیار کیا گیا ہے۔ فوٹو اے پی

aوپن اے آئی کا لوگو سیل فون پر, کمپیوٹر مانیٹر کی تصویر کے ساتھ دکھایا گیا ہے جو ChatGPT کے Dall-E ٹیکسٹ ٹو امیج ماڈل میں تیار کیا گیا ہے۔ فوٹو اے پی

تقریباً چھ میں سے ایک کارکن یعنی 16 فیصد کا کہنا ہے کہ ان کے کام کچھ حصہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ تحقیقی ادارے کے مطابق دیگر 25 فیصد کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ اس وقت اس کا زیادہ استعمال نہیں کر رہے ہیں لیکن کم از کم ان کا کچھ کام مصنوعی ذہانت کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ یہ رجحان بیچلرز ڈگری رکھنے والے نوجوانوں میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

پیو ریسرچ کے یہ نتائج ایک بڑے سروے پر مبنی ہیں جس کے تحت، 7 سے 13 اکتوبر 2024 تک، 5,273 ملازمت پیشہ امریکی بالغوں کی آرا معلوم کی گئیں۔ اس دوران اس بات کا جائزہ لیا گیا تھا کہ کارکن مجموعی طور پر کام کی جگہ پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کو کس طرح دیکھتے ہیں۔

صرف 6 فیصد ملازم پیشہ لوگوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ کام کی جگہ پر مصنوعی ذہانت کا استعمال طویل عرصےکے دوران ان کے لئے ملازمت کے مزید مواقع کا باعث بنے گا۔

تقریبا ایک تہائی یعنی 32 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے ان کے لیے مواقع کم ہوں گے اور 31 فیصد کا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔

چیٹ جی پی ٹی اور ڈیپ سیک کے درمیان مقابلہ مصنوعی ذہانت کے شعبے پر کیسے اثر انداز ہو سکتا ہے؟





please wait



No media source currently available

دلچسب بات یہ ہے کہ تقریبا 17فیصد کارکنوں نے کہا کہ انہوں نے کام کی جگہ پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں نہیں سنا ہے۔

ادارے کے مطابق تقریباً چھ میں سے ایک کارکن یعنی 16 فیصد خود بھی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے صارف ہیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کے کام کا کم از کم کچھ حصہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پتہ چلا ہے کہ 81 فیصد کارکنوں کو غیر مصنوعی ذہانت کے صارفین سمجھا جاسکتا ہے۔ اس تناسب میں 63 فیصد شامل وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ اپنی ملازمت میں مصنوعی ذہانت کا زیادہ یا بالکل بھی استعمال نہیں کرتے ہیں۔

اس تحقیق میں شامل کارکنوں کی اکثریت یعنی 55 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ شاذ و نادر ہی یا کبھی بھی چیٹ بوٹس جیسی مصنوعی ذہانت کی سہولیات کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔

سروے میں شامل افراد کی عمر

جہاں تک مصنوعی ذہانت کے اثرات کا کارکنوں کی عمر سے تعلق ہے تو 18 سے 29 سال کی عمر کے کارکن مہینے میں کم از کم چند بار کام پر اے آئی چیٹ بوٹس استعمال کرنے کا امکان زیادہ ہے۔

ہوشیار! اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے آپ کو لوٹا بھی جا سکتا ہے؟





please wait



No media source currently available

اس گروپ سے بڑی عمر کے لوگوں میں 23 فیصد کہتے ہیں کہ وہ کبھی کبھار چیٹ بوٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ سینیئر کارکنوں میں چیٹ بوٹ کا استعمال کرنے کا تناسب کم ہو کر 17 فیصد رہ جاتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے