کوئٹہ: دہشتگرد حملے کے بعد کوئٹہ سے ٹرین سروس تاحال بحال نہ ہوسکی، جس کے باعث ریلوے کو یومیہ 24 لاکھ روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ٹرین سروس کی بحالی کے لیے سیکیورٹی حکام کی جانب سے کلیئرنس درکار ہے، جو تاحال نہیں ملی، جب تک متعلقہ سیکیورٹی ادارے اجازت نہیں دیتے، ٹرینیں نہیں چلائی جا سکتیں۔
ریلوے حکام کے مطابق سروس کی معطلی سے کوئٹہ ریلوے کو روزانہ 24 لاکھ روپے کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، ریزرویشن نہ ہونے کی وجہ سے لوگ متبادل سفری ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہیں جبکہ پہلے سے بک کی گئی ٹکٹس کی منسوخی کے سبب بھی ریلوے کو مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
ٹرین بند ہونے کی وجہ سے کوئٹہ اور اندرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کو مشکلات درپیش ہیں کیونکہ ٹرین کا سفر نہ صرف سستا بلکہ آرام دہ بھی ہوتا ہے لوگ اب بسوں اور دیگر مہنگے سفری ذرائع اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔
مسافروں نے حکومت اور ریلوے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی معاملات کو جلد از جلد حل کر کے ٹرین سروس بحال کی جائے تاکہ لوگوں کو سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں اور ریلوے کے مالی نقصان میں کمی آئے۔
خیال رہےکہ ریلوے حکام نے دہشتگرد حملے کے پیش نظر سیکیورٹی خدشات کے باعث کوئٹہ ریلوے ٹریک کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم9 روز گزرنے کے باوجود ٹرین سروس بحال نہیں ہو سکی۔
