English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مفتاح اسماعیل کی حکومت پر تنقید، مہنگی بجلی اور چینی کی قیمتوں پر سوالات

القمر

کراچی: سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ماضی میں عمران خان کی حکومت پر جو تنقید کرتے تھے، آج وہی اقدامات خود کر رہے ہیں۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آٹا سستا کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے، لیکن گندم کی قیمت مہنگی کر دی گئی ہے، جس سے عوام کو ریلیف نہیں مل رہا،

سولر سسٹم پر حکومت کی نئی پالیسی کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پہلے شہباز شریف نے عوام کو گھروں پر سولر لگانے کی ترغیب دی، لیکن اب نیٹ میٹرنگ ختم کرکے گروس میٹرنگ کر دی گئی ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت نے اب ہر خریدے جانے والے یونٹ پر 8 روپے سیلز ٹیکس لگا دیا ہے اور عوام جب اپنی سولر بجلی فروخت کریں گے تو اس پر بھی ٹیکس لیا جائے گا، جس سے بجلی کے بلوں میں مزید اضافہ ہوگا۔

سابق وزیر خزانہ نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ مہنگی بجلی پیدا کرنے والے نجی پاور پلانٹس (IPPs) سے 70 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے، لیکن عوام سے 1300 گیگا واٹ آورز کی سولر بجلی لینا بوجھ لگ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت کی بجلی کی پیداوار اور تقسیم میں بے انتہا ضیاع ہو رہا ہے، لیکن اس کا بوجھ عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دے کر شوگر مل مالکان کو فائدہ پہنچایا، جس کی وجہ سے ملک میں چینی کی قلت پیدا ہوئی اور اس کی قیمت 140 سے 180 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو بتانا چاہیے کہ یہ مہنگے بجلی گھر کس نے لگائے، جن کا بوجھ سولر صارفین پر ڈالا جا رہا ہے؟ اور کیوں عوام کو مہنگی بجلی، مہنگی چینی اور مہنگی گندم کے بحران میں دھکیلا جا رہا ہے؟

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت پچھلی حکومتوں کی پالیسیوں پر تنقید کرتی رہی، مگر اب وہی فیصلے خود دہرا رہی ہے، جس کا خمیازہ عام آدمی بھگت رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے