English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت:یونیورسٹی میں نماز پڑھنے پر مسلم طلبہ گرفتار، احتجاج پر پولیس کا تشدد

القمر

میرٹھ: بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر میرٹھ میں ایک یونیورسٹی میں مسلم طلبہ کو نماز پڑھنے پر گرفتار کر لیا گیا، جس کے بعد کیمپس میں شدید احتجاج شروع ہو گیا۔ اور واقعے کے بعد ایک بار پھر بھارت میں مذہبی آزادی کے حوالے سے سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق میرٹھ یونیورسٹی کے ایک مسلم طالب علم خالد دھان نے کیمپس میں نماز ادا کی، جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے انہیں گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کر دیا۔ خالد دھان کو غیر قانونی حراست میں لینے کے خلاف یونیورسٹی کے 400 سے زائد طلبہ نے احتجاج شروع کر دیا۔

احتجاجی طلبہ کا کہنا تھا کہ اگر یونیورسٹی میں ہندو طلبہ کو پوجا کرنے کی اجازت ہے تو مسلم طلبہ کو نماز پڑھنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ انہوں نے خالد دھان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیالیکن انتظامیہ نے ان کی بات سننے کے بجائے پولیس کو طلب کر لیا۔

احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے شیل داغے اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔ اس کے باوجود جب طلبہ نے احتجاج جاری رکھا تو پولیس مزید 6 طلبہ کو گرفتار کر کے تھانے لے گئی۔

واقعے کے بعد بھارت میں مذہبی آزادی کے حوالے سے ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ مسلم طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی اپنے مذہبی فرائض ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

دوسری جانب دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کرنے والی مودی سرکار نے اب تک اس واقعے پر کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے، تاہم اس واقعے نے ملک بھر میں جاری مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی پالیسی کو ایک بار پھر ثابت کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے