اسلام آباد : جماعت اسلامی نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف ملک گیر امریکی قونصلیٹ کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے، جس میں ہزاروں مرد و خواتین سمیت بچوں نے شرکت کی، جنہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔
لاہور
لاہور میں مارچ مسجد شہداء سے شروع ہوا جس کی قیادت امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کررہے تھے، حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں مارچ ایمپریس روڈ سے گزرتا ہوا امریکی سفارتخانے کے پاس پہنچ کر احتجاج میں تبدیل ہوگیا تھا، انتظامیہ نے ریڈ زون جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیے تھے جبکہ پولیس کی بھاری نفری امریکی قونصل خانے کے سامنے تعینات کر دی گئی تھی۔
حافظ نعیم الرحمن نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ غزہ میں رمضان المبارک کے دوران نہتے فلسطینیوں، بچوں اور خواتین پر بمباری ہو رہی ہے اور اب تک 650 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد معصوم بچوں کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکا انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں، ٹرمپ اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے اور فلسطینیوں کی نسل کشی کروا رہا ہے، غزہ کے 90 فیصد علاقے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے مسلم حکمرانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کے پاس لاکھوں کی فوج اور بے پناہ وسائل ہونے کے باوجود وہ بے عملی کا شکار ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے پاکستانی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا کہ کچھ پاکستانی صحافی اسرائیل گئے ہیں، جس پر حکومت کو وضاحت دینی چاہیے، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی تو عوام اس کے خلاف شدید ردعمل دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ ملک گیر ملین مارچ کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے پاکستانی عوام سے اپیل کی کہ وہ فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کریں تاکہ دنیا کو یہ پیغام جائے کہ پاکستانی غیرت مند قوم ہے اور ظلم کے خلاف کھڑی ہے۔
اسلام آباد
اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے باہر مظاہرے کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ اور امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا نے کی، مارچ کے شرکاء آبپارہ چوک سے ہوتے ہوئے امریکی قونصلیٹ تک پہنچے جہاں انہوں نےفلسطینیوں سے اظہار یکجتی کرتے ہوئےاسرائیلی پرچم نذر آتش کیے، صوبائی حکومت نے حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے ریڈ زون جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا تھا جبکہ پولیس کی بھاری نفری امریکی قونصل خانے کے سامنے تعینات کر دی تھی۔
پشاور:
جماعت اسلامی خیبر پختونخوا جنوبی کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان کی قیادت میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جس میں انہوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے اور امریکا اس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ انہوں نے غزہ میں جاری قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے مسلم حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر فلسطینی عوام کی عملی مدد کے لیے اقدامات کریں۔
کراچی
جماعت اسلامی پاکستان کےتحت ملک بھرمیں امریکی قونصلیٹ کے باہرتک امریکی سرپرستی میں غزہ میں دوبارہ اسرائیلی جارحیت و جنگ بندی اور معاہدے کی خلاف ورزی کے خلاف احتجاج کیاگیا،جس میں خواتین و بچوں سمیت سیکڑوں افراد نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پُر جوش نعرے لگائے۔
پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹوں کے باوجود امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی قیادت میں ہزاروں افراد نے بوٹ بیسن تا امریکی قونصلیٹ احتجاجی مارچ کیا گیا۔
شرکاء نے امریکا و اسرائیل کے خلاف مختلف بینرز و پلے کارڈز اُٹھا کر اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کیا، شرکاء نے مخصوص فلسطینی رومال پہننے ہوئے تھے اورفلسطینی پرچم اُٹھائے ہوئے تھے، امریکی قونصلیٹ پر احتجاج امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر امریکی سرپرستی میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف ملک گیر احتجاج کے سلسلے میں کیا گیا تھا،اس موقع پر امریکی قونصلیٹ میں یادداشت بھی پیش کی گئی۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے ہزاروں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل امریکہ کی سرپرستی میں مسلسل فلسطینیو ں کی نسل کشی کر رہا ہے، عالم اسلام کے حکمران اہل غزہ و فلسطین کی حمایت کرنے کے بجائے امریکا کی خوشنودی میں لگے ہوئے ہیں، فلسطین فلسطینیوں کی سرزمین ہے،انہیں کوئی طاقت بے دخل نہیں کر سکتی، اسرائیل ناجائز ریاست ہے اسے تسلیم نہیں کیا جا سکتا،بیت المقدس کا تحفظ ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے۔
منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ گزشتہ 17 ماہ میں 50 ہزار سے زائد فلسطینی شہید کیے گئے۔ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ہزاروں فلسطینیوں کی لاشوں کو ملبوں کے نیچے سے نکالا گیا۔ اسرائیل نے پورے غزہ کو ملیا میٹ کردیا ہے لیکن اہل غزہ آج بھی سربکف ہیں اور اسرائیل کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ اللہ پر ایمان اور ثابت قدمی ہو تو دنیا کی کوئی بھی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ امریکا اقوام متحدہ میں 3 دفعہ اسرائیل کے خلاف قراردادوں کو ویٹو کرچکا ہے۔
