پشاور:: وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ صوبہ مالی مشکلات سے نکل چکا ہے اور اس وقت 159 ارب روپے سرپلس میں ہے، جبکہ پنجاب 148 ارب روپے کے خسارے میں ہے۔
افطار پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر کرپشن ہوتی تو صوبہ سرپلس نہ ہوتا، انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ “ایسی کرپشن تو پھر تمام صوبوں میں ہونی چاہیے۔”
انہوں نے ملکی سیاسی استحکام کے لیے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک انہیں آزاد نہیں کیا جاتا، کوئی قومی ڈائیلاگ ممکن نہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک میں دہشت گردی اور بدامنی میں اضافہ ہوا ہے۔
علی امین گنڈا پور نے افغانستان سے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں کلومیٹر کی مشترکہ سرحد کے پیش نظر بات چیت ہی مسائل کا حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی طالبان سے بات چیت کا فیصلہ ہوا تھا اور اب بھی قومی بہتری کے لیے قومی ڈائیلاگ ناگزیر ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے عوامی حمایت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا اور عوامی رائے کے ساتھ چلنا پڑے گا۔
