لندن: برطانوی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستانی نژاد رکنِ پارلیمنٹ شبانہ محمود کو وزیر داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے یہ فیصلہ اس وقت کیا جب ڈپٹی وزیراعظم اینجلا رینر نے ٹیکس ادائیگی میں بے ضابطگی کے باعث استعفیٰ دے دیا۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کو ڈپٹی وزیراعظم اور یویٹ کوپر کو وزیر خارجہ مقرر کیا گیا، جبکہ شبانہ محمود نے وزارت داخلہ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
44 سالہ شبانہ محمود برمنگھم میں پیدا ہوئیں اور ان کے والدین کا تعلق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے میرپور سے ہے۔ وہ لیبر پارٹی میں ایک مضبوط، صاف گو اور پالیسی پر عمل درآمد کرنے والی شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ وزارت انصاف میں ان کی کارکردگی کو نمایاں اہمیت دی گئی، جہاں انہوں نے عملی اور جرات مندانہ اقدامات کے ذریعے اپنا سیاسی قد بڑھایا۔
اینجلارینر کا استعفیٰ وزیراعظم اسٹارمر کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جو پہلے ہی اپنی پارٹی کے اندرونی مسائل اور وزارتی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق رینر نے نیا گھر خریدتے وقت واجب الادا 40 ہزار پاؤنڈ ٹیکس ادا نہ کر کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی تھی۔ رینر نے اپنے استعفے میں وزیراعظم اور عوام سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ٹیکس مشورہ لینا چاہیے تھا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق شبانہ محمود کی تقرری لیبر پارٹی کے لیے نہ صرف ایک مستحکم انتخاب ہے بلکہ برطانیہ میں پاکستانی نژاد کمیونٹی کے لیے بھی ایک تاریخی موقع ہے۔ ان کی تعیناتی اس امر کا ثبوت ہے کہ برطانوی سیاست میں نسلی اقلیتوں کا کردار مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
دوسری طرف، نائیجل فراج کی ریفارم یوکے پارٹی نے اس موقع پر لیبر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ فراج نے کہا کہ رینر کا استعفیٰ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت سنگین بحران میں ہے اور ممکن ہے کہ قبل از وقت انتخابات کی نوبت آجائے۔ عوامی سروے میں بھی ریفارم یوکے کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے لیبر پارٹی پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
