کھٹمنڈو: نیپال میں فوج نے حکومت کی کمان سنبھال لی، نیپالی حکومت کے تمام وزراءمستعفی ہو گئے، فوج نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کر دی۔نیپال میں جاری حکومت مخالف پرتشدد مظاہروں کے بعد نیپال کی فوج نے ملک کے حکومتی امور کی کمان سنبھال لی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپالی فوج نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملک کی سیکورٹی اور پرتشدد واقعات کو روکنے کےلیے حکومت سنبھالی ہے۔
نیپالی فوج نے عوام سے پرتشدد مظاہرے ترک کرنے اور پرامن ہو جانے کی اپیل کی ہے جبکہ نیپالی فوج کی جانب سے حکومت سنبھالنے سے قبل نیپالی حکومت کے تمام وزراءمستعفی ہو گئے۔ نیپال میں حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عائد پابندی ختم کرنے کے باوجود دارالحکومت کھٹمنڈو سمیت مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور وزیراعظم کے پی شرما اولی بھی مستعفی ہو گئے ہیں۔بی بی سی اردو کے مطابق نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی اور مبینہ سیاسی بدعنوانی کے خلاف دارالحکومت کھٹمنڈو میں ہونے والے احتجاج میں متعدد اموات پر وزیراعظم کے پی شرما اولی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ملک میں جاری پرتشدد احتجاج کے دوران اب تک 21 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اس صورتحال میں نیپال کے وزیر داخلہ اور وزیر صحت سمیت3وزرا نے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تاہم مظاہرین نے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور منگل کی دوپہروزیراعظم بھی مستعفی ہو گئے۔وزیراعظم نے بیان میں کہا کہ انہوں نے موجودہ بحران کے آئینی حل کی راہ ہموار کرنے کے لئے استعفیٰ دیا ہے۔ پیر کو شروع ہونے والے احتجاج کے بعد حکومت نے رات گئے سوشل میڈیا ایپس پر عائد پابندی ختم کر دی لیکن منگل کی صبح بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران کئی اہم سیاستدانوں کی رہائش گاہوں پر حملہ کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی، جن میں مستعفی ہونے والے وزیراعظم کے پی شرما اولی کے گھر پر حملہ کر کے اسے نذر آتش کر دیا گیا اور وزرا اور سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا کے گھروں پر بھی حملہ کیا گیا ، فوج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے وزرا کو گھروں سے نکالا ہے۔
اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ سول سروس ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر موہن ریگمی نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو ہونے والے احتجاج کے دوران مزید 2 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس سے قبل پیر کو 19 افراد کی اموات کی تصدیق کی گئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت 90 سے زیادہ افراد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
