غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے روانہ ہونے والا “گلوبل صمود فلوٹیلا” اپنی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے اور جلد ہی رسک زون میں داخل ہوگا۔ دوسری جانب اسرائیل نے قافلے کو روکنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کرنے کی غرض سے ہفتے کی شام ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹلی اور اسپین نے فلوٹیلا کی حفاظت کے لیے اپنے بحری جہاز روانہ کر دیے ہیں تاکہ کسی ممکنہ حملے یا ہنگامی صورتحال میں متاثرین کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
اس صورتحال پر معروف پاکستانی عالم دین مفتی تقی عثمانی نے بھی ردِعمل دیا ہے۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ اسپین اور اٹلی نے صمود فلوٹیلا کی ہمراہی کے لیے جہاز اس لیے بھیجے ہیں تاکہ اگر قافلے پر حملہ ہو تو متاثرین کو امداد پہنچائی جا سکے۔ انہوں نے سوال اٹھایا: “کیا مسلمان ممالک انسان دوستی کے اس ادنیٰ مظاہرے سے بھی قاصر ہیں؟”
مفتی تقی عثمانی نے اپنی ٹوئٹ کے ذریعے عالم اسلام کی حکومتوں کو ان کی ذمہ داری یاد دلانے اور ان کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا۔
