کیف: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ روس سے تیل اور گیس کی درآمد فوری طور پر بند کریں کیونکہ ان کے مطابق ان وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی براہِ راست جنگ پر خرچ کی جارہی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق زیلنسکی نے کہا کہ یورپ کو کسی بھی روسی تیل اور گیس کی درآمد روک دینی چاہیے۔ یہ تمام رقم روس براہ راست جنگ پر خرچ کر رہا ہے، روس کے اندر سماجی امداد میں کسی اضافے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، جس کا مطلب ہے کہ یہ سارے فنڈز جنگ میں جھونکے جا رہے ہیں۔
انہوں نےکہا کہ توانائی کے ذرائع سے روس کی آمدنی روکنے سے ماسکو کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کمزور ہوگی، اگر روس کے پاس جنگ کے لیے پیسہ کم ہوا تو عوامی سہولیات میں کٹوتی ہوگی، جس کے نتیجے میں روسی عوام میں عدم اطمینان پھیلے گا اور بالآخر قیادت پر دباؤ بڑھے گا۔
یوکرینی صدر نے واضح کیا کہ اگرچہ متبادل توانائی و لاجسٹک ذرائع مہنگے ثابت ہوسکتے ہیں لیکن اس کے حل نکالنے ضروری ہیں،اس معاملے پر میں مکمل طور پر امریکا کے ساتھ ہوں اور یوکرین یورپ کی مدد کے لیے تیار ہے۔
زیلنسکی نے مزید کہا کہ صرف توانائی نہیں بلکہ روس کی دیگر اقتصادی سرگرمیوں کو بھی نشانہ بنایا جانا چاہیے، جس میں ’’شیڈو فلیٹ، بینکاری نظام اور بحری تجارت شامل ہیں۔ ان کے مطابق ’’روس کو تجارتی سرگرمیوں اور برآمدات سے روکنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا توانائی پر انحصار ختم کرنا، مکمل پابندیاں لگنی چاہییں، بغیر کسی استثنیٰ کے۔
خیال رہےکہ روس اور یوکرین جنگ کے باعث یورپ توانائی کے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے اور مغربی اتحادی روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔
