English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سندھ حکومت کرپشن کا گڑھ بن چکی، 15 سال میں 3360 ارب روپے کھا لیے، حافظ نعیم الرحمن

القمر

کراچی: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے  کہا ہے کہ  سندھ حکومت کرپشن کا گڑھ بن چکی ہے، جس نے 15 سال میں 3360 ارب روپے کھا لیے۔

شہر قائد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کراچی کی ابتر صورتحال اور حکومتی نااہلی پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ شہر کو ترقیاتی منصوبوں کے نام پر تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ انہوں نے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کو شہریوں کے لیے عذاب قرار دیتے ہوئے اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ منصوبہ سوائے عوام کو اذیت دینے کے کسی کام کا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی کے نام پر کراچی والوں کی تذلیل کی جارہی ہے جب کہ شہر کی اہم شاہراہیں، خصوصاً سائٹ ایریا کی سڑکیں اب بھی کھنڈر بنی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر اتنی یونیورسٹیاں موجود ہیں مگر حالت انتہائی خراب ہے، طلبہ اور شہری روزانہ اذیت سہنے پر مجبور ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے سندھ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کرپشن کا گڑھ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 15 سال میں 3360 ارب روپے سندھ حکومت نے ہڑپ کرلیے، لیکن عوام تک نہ سڑک پہنچی نہ پانی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی محض ایک شہر نہیں، پورے ملک کی تصویر ہے۔ یہاں رہنے والے مختلف قومیتوں کے لوگ مل کر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں، مگر حکمران جماعتیں اس شہر سے مسلسل ناانصافی کرتی آئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گلشن اقبال میں ایک بڑے فراڈ کے تحت شہریوں کی زمینوں پر قبضے کی کوشش کی جارہی تھی، جسے جماعت اسلامی نے روک کر عوام کو ریلیف فراہم کیا۔ فرضی دستاویزات کے ذریعے گھروں پر قبضے کا سلسلہ جاری ہے، لیکن جماعت اسلامی کراچی والوں کے گھروں پر ناجائز قبضہ نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے سسٹم کی خرابیوں کے خاتمے کی بات کی تھی، مگر تاحال کوئی واضح بہتری نظر نہیں آئی۔

حافظ نعیم نے کمسن بچے کی مین ہول میں گر کر ہلاکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ واٹر بورڈ اور میئر کراچی بچے کی موت کے ذمہ دار ہیں کیونکہ شہر میں کھلے مین ہولز کسی بھی وقت جان لے سکتے ہیں۔

انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ 3 کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والے شہر کا کوئی پرسان حال نہیں۔ جب جماعت اسلامی شہر کے لیے خدمات انجام دیتی ہے تو مخالفین سوال اٹھاتے ہیں کہ فنڈ کہاں سے آئے، مگر یہی سوال سندھ حکومت سے نہیں پوچھا جاتا جس نے کھربوں روپے خرچ کرکے کچھ نہیں دکھایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ بدلو نظام تحریک کے تحت جماعت اسلامی ہر اس جگہ کھڑی ہوگی جہاں عام شہری کے گھر یا زمین پر قبضہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومتیں شہری مسائل حل نہیں کرتیں تو پھر عوامی نمائندوں کو مجبوراً میدان میں آنا پڑتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ شہری حکومتوں کو مکمل اختیارات دیے جائیں تاکہ انتظامی مسائل حل ہوسکیں۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی مل کر کراچی کے وسائل پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں جبکہ انتظامی یونٹس اور لسانی بحث کے ذریعے عوام کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا جاتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہتی، لیکن ریاست اور حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتیں تو پھر عوامی خدمت کے لیے وہ ہر جگہ موجود ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے