اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ورچوئل اثاثوں کے شعبے کی نگرانی کے لیے بلال بن ثاقب کو پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کردیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان کی تعیناتی کا مقصد ملک میں ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل فنانس اور ورچوئل ایسٹ ٹیکنالوجیز کے لیے مضبوط، واضح اور مستحکم ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینا ہے، تاکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری اور شفافیت دونوں کو فروغ مل سکے۔
بلال بن ثاقب کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے حالیہ برسوں میں وزارت کے مختلف شعبوں میں معاون خصوصی کے طور پر خدمات انجام دیں، تاہم نئے عہدے کے بعد قواعد کے مطابق وہ معاون خصوصی کا منصب برقرار نہیں رکھ سکتے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنا استعفا حکومت کو پیش کردیا۔
وفاقی کابینہ نے بلال بن ثاقب کی تقرری کی باضابطہ منظوری دے دی ہے جس کے ساتھ ہی ان کے عہدے کا فوری اطلاق ہوگیا ہے۔ حکومتی دستاویزات کے مطابق وہ بغیر کسی تنخواہ کے چیئرمین کی ذمہ داریاں نبھائیں گے، جبکہ ان کی تقرری اعزازی بنیادوں پر تین سال کے لیے کی گئی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ورچوئل اثاثوں کے شعبے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحانات کے پیشِ نظر ایک ایسی اتھارٹی کی ضرورت تھی جو نہ صرف ملکی سطح پر ڈیجیٹل مالیاتی سرگرمیوں کو منظم کرے بلکہ عالمی تقاضوں کے مطابق ان کی نگرانی بھی کر سکے۔
عہدے کے ساتھ ساتھ بلال بن ثاقب پر اس شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوگی، جس کے لیے وہ متعلقہ سرکاری اداروں اور نجی سیکٹر کے ساتھ مل کر لائحہ عمل تیار کریں گے۔
اس نئے عہدے کے ساتھ بلال بن ثاقب کو وزیرِ مملکت کا درجہ بھی دیا گیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت اس اتھارٹی کو محض ایک ریگولیٹری ادارہ نہیں بلکہ قومی سطح پر ڈیجیٹل معیشت کی پالیسی سازی کا اہم ستون بنانا چاہتی ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ورچوئل ایسٹس، کرپٹو ریگولیشن، ڈیجیٹل ٹوکنائزیشن اور آن لائن مالیاتی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے مؤثر قانون سازی وقت کی ضرورت ہے اور حکومت کی جانب سے اس اتھارٹی کو فعال بنانا اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ ملک میں اس شعبے سے متعلق پالیسی معاملات کئی برسوں سے متنازع رہے ہیں جب کہ متعدد بار یہ سوال بھی اٹھایا جاتا رہا کہ ورچوئل فنانس کو مکمل طور پر ریگولیٹ کیے بغیر پاکستان جدید فنانشل ٹیکنالوجیز کی دوڑ میں پیچھے رہ سکتا ہے۔
بلال بن ثاقب کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کے بعد توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ اتھارٹی آئندہ چند ماہ میں شفاف ضوابط، لائسنسنگ کے طریقہ کار، بین الاقوامی معیارات کے مطابق نگرانی کے نظام اور ڈیجیٹل فنانس کے فروغ کے لیے نئے منصوبے سامنے لائے گی۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پاکستان میں ایسے محفوظ ماحول کا قیام ہے جہاں ورچوئل اثاثوں کے استعمال، تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کم ہو اور کاروباری طبقہ اعتماد کے ساتھ اس شعبے میں قدم رکھ سکے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹلائزیشن اور نئے مالیاتی رجحانات کو دیکھتے ہوئے یہ تقرری مستقبل کی معیشت کو مستحکم بنانے کی اہم حکومتی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
