English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسرائیلی ڈرون حملہ:غزہ کی اصل کہانی دکھانے والا نوجوان فوٹوگرافر شہید

القمر

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی ڈرون حملے میں غزہ کی اصل کہانی دکھانے والا نوجوان فوٹوگرافر شہید ہوگیا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق خان یونس میں ہونے والے اسرائیلی ڈرون حملے نے محمود وادی نامی نوجوان کی زندگی چھین لی جو تباہ شدہ بستیوں کی تصویروں اور ڈاکومنٹریز کے ذریعے حقیقت کا وہ رخ دکھا رہا تھا جسے اسرائیلی ریاست مسلسل چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

محمود وادی کی زندگی کسی بھی نوجوان فلسطینی کی طرح عام انداز میں شروع ہوئی تھی۔ اس کا شوق شادیوں کی فوٹوگرافی تھا۔ وہ اپنے کیمرے کے ذریعے مسکراہٹیں قید کرتا، خوشیوں کو محفوظ کرتا اور لوگوں کے خاص لمحات کو یادگار بناتا تھا۔

اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے بعد غزہ کی گلیاں جب ملبے کے ڈھیر میں بدلنے لگیں، معصوم بچوں کے جسم ملبے کے نیچے سے برآمد ہونے لگے اور پوری کی پوری آبادی کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا تو محمود نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے شہر کی چیخوں اور بربادی کی گواہی محفوظ کرے گا تاکہ دنیا جان سکے کہ غزہ پر کیا بیت رہی ہے۔

اپنے محدود وسائل کے باوجود محمود نے ڈرون کی مدد سے تباہ شدہ بستیوں کی تصویریں اور ویڈیوز بنانا شروع کیں۔ اس نے القدس کے نام سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنایا اور وہاں وہ تمام مناظر شیئر کیے جنہیں اسرائیل مسلسل دنیا سے چھپانا چاہتا تھا۔

محمود کی ویڈیوز میں وہ گلیاں تھیں جہاں کبھی زندگی دوڑتی تھی، وہ اسکول تھے جن میں بچوں کی ہنسی گونجتی تھی اور وہ مارکیٹیں تھیں جو اب راکھ کے ڈھیر میں بدل چکی ہیں اور صیہونی حکومت کو یہی سچ برداشت نہ ہوا۔

خان یونس کے علاقے میں اسرائیلی ڈرون نے محمود کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ایک اور تباہ شدہ محلے کی حالت ریکارڈ کر رہا تھا۔ حملہ اتنا اچانک تھا کہ اسے بچنے کا کوئی موقع نہیں ملا۔ اس کا کیمرہ، اس کا ڈرون اور اس کا جسم ایک ہی لمحے میں خاموش ہو گئے ۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک 250 سے زائد صحافی، فوٹوگرافر اور میڈیا ورکر اسرائیلی حملوں میں شہید کیے جا چکے ہیں۔ درجنوں صحافی اسرائیلی حراست میں موجود ہیں جن کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

قابض ریاست اسرائیل ہر اُس آواز کو خاموش کرنا چاہتی ہے جو غزہ کی اصل تصویر دنیا تک پہنچانے کی ہمت کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے