ڈھاکا: بنگلادیش میں ایک سیاسی رہنما عثمان ہادی پر قاتلانہ حملے کے بعد بھارتی سرپرستی میں مبینہ طور پر انتخابات متاثر کرنے کے لیے منصوبہ بندی سامنے آئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیشی عوامی لیگ کے شدت پسند کارکن نے عثمان ہادی پر فائرنگ کی، جس سے وہ شدید زخمی ہوئے۔
بنگلادیشی وزارت خارجہ نے بھارتی مداخلت پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ عثمان ہادی پر حملے میں ملوث افراد کو حوالگی کرے۔ وزارت نے الزام لگایا کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور بھارت کی سرپرستی میں عوامی لیگ آئندہ انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق عثمان ہادی کو بھارت سے فون نمبروں کے ذریعے دھمکیاں بھی دی گئی ہیں، اور سیاسی کارکن کے قتل کا منصوبہ عام انتخابات سے قبل تیار کیا گیا تھا تاکہ انتخابی عمل متاثر ہو۔
