لاہور: جماعت اسلامی نے بلدیاتی نظام کو بااختیار بنانے اور موجودہ بلدیاتی ایکٹ کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے 21 دسمبر کو پاکستان بھر کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں دھرنے دینے کا اعلان کیا ہے۔
جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ موجودہ بلدیاتی ایکٹ جمہوریت پر بدنما داغ ہے اور یہ قانون عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر جمہوریت محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے، مگر حکمران طبقہ جان بوجھ کر بلدیاتی اداروں کو مفلوج رکھنا چاہتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب میں حکمران یونین کونسل کی سطح پر بھی سیاسی چیئرمین اور وائس چیئرمین منتخب کرانے میں ناکام رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی نمائندگی سے خوفزدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ ایسے ادارے تشکیل دینا چاہتے ہیں جو مکمل طور پر ان کی جیب میں ہوں، جبکہ عوامی طاقت سے ابھرنے والا بااختیار نظام انہیں کسی صورت قبول نہیں۔
امیر جماعت کا کہنا تھا کہ لاہور جیسے بڑے شہر کو میٹروپولیٹن کارپوریشن بنانے کے بجائے دانستہ طور پر ٹاؤن کی سطح تک محدود رکھا جا رہا ہے تاکہ ایک مضبوط اور بااختیار میئر سامنے نہ آ سکے جو وزیراعلیٰ کو جوابدہ بنانے کی جرات رکھتا ہو۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ دیگر سیاسی جماعتیں غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھا رہیں، حالانکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو تو اختیارات منتقل کیے گئے مگر بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے سے مسلسل گریز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل جمہوریت یونین کونسل اور وارڈ کی سطح سے جنم لیتی ہے، مگر حکمران طبقہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے زرعی شعبے کی ابتر صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسان کو گنے کی مناسب قیمت نہیں مل رہی اور جنوبی پنجاب میں کپاس کی بڑی پیداوار کے باوجود شوگر ملز کا قیام ایک منظم استحصال کی علامت ہے۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ حکومت نمائشی اقدامات کے ذریعے معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ سٹے کے کاروبار اور اسٹاک ایکسچینج کے اتار چڑھاؤ پر معاشی پالیسیاں نہیں بن سکتیں۔ حقیقی معیشت زراعت، صنعت اور عوامی خوشحالی سے جڑی ہوتی ہے، جسے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی شعور کو بیدار کرے گی اور عوام کو ان کے حقوق کے لیے منظم کیا جائے گا۔
انہوں نے بیوروکریسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ سرکاری افسران خود کو عوام کا خادم سمجھنے کے بجائے حاکم سمجھنے لگے ہیں۔ حکمران قوم سے سچ بولیں اور جھوٹے وعدوں کا سلسلہ بند کریں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے وضاحت طلب کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے سوا کوئی سیاسی جماعت اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھل کر بات نہیں کرتی اور سیاسی جماعتیں صرف اس وقت ناراض ہوتی ہیں جب مراعات کسی اور کے حصے میں چلی جائیں۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 17 برس سے اقتدار کے باوجود کراچی آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے جب کہ اسلام آباد میں بار بار لوکل گورنمنٹ ایکٹ تبدیل کیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ حکمران بلدیاتی نظام کو مستحکم دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اداروں کو ختم کرنے کے بجائے ان میں کام نہ کرنے والے ملازمین کا احتساب ہونا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حق کو روکنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے فسطائیت قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر حقیقی سیاسی جماعتوں کو جیتنے نہ دیا گیا تو ملک میں انارکی پھیلنے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔
بین الاقوامی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بہار کے وزیر اعلیٰ کے اقدام کو اسلام دشمنی قرار دیا اور کہا کہ ایک مسلم ڈاکٹر کے چہرے سے حجاب ہٹانا پورے عالم اسلام کی توہین ہے، جو بھارتی جمہوریت کے کھوکھلے دعوؤں کو بے نقاب کرتا ہے۔
میڈیا سے متعلق سوال پر حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت میڈیا کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ میڈیا ورکرز کا تحفظ مالکان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے صحافی تنظیموں اور پریس کلبوں پر زور دیا کہ وہ آزادیٔ صحافت اور میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں۔
