English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ای سی سی کا بڑا فیصلہ: لاپتا افراد کے خاندانوں کیلیے اربوں کی مالی امداد منظور

القمر

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کے لیے اربوں روپے کی مالی معاونت سمیت مختلف شعبوں کے لیے خطیر فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔

اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی، جس میں ملکی معیشت، مہنگائی کی صورتحال اور ترقیاتی ترجیحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لاپتا افراد کے 945 متاثرہ خاندانوں کو مجموعی طور پر 4 ارب 77 کروڑ روپے ادا کیے جائیں گے۔ حکومتی حکام کے مطابق یہ رقم ان خاندانوں کے دیرینہ مطالبات اور مشکلات کے پیش نظر منظور کی گئی ہے، تاکہ برسوں سے اذیت کا شکار خاندانوں کو کچھ حد تک مالی سہارا فراہم کیا جا سکے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

چیف اکانومسٹ ڈاکٹر امتیاز احمد نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ رواں مالی سال کے دوران مہنگائی کی مجموعی صورت حال میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی مہینوں میں افراطِ زر کی شرح نسبتاً کم رہی، جو مؤثر مالی نظم و نسق اور حکومتی اقدامات کا نتیجہ ہے، تاہم بعض قدرتی آفات، بالخصوص سیلاب کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی جس سے عارضی دباؤ پیدا ہوا، مگر بعد ازاں مہنگائی کی رفتار میں دوبارہ کمی دیکھی گئی۔

ای سی سی کے اجلاس میں توانائی کے شعبے پر بھی خاص توجہ دی گئی۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے لیے 200 ارب روپے کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد توانائی کے نظام کو مستحکم بنانا اور مستقبل میں بجلی کے بحران کو کم کرنا ہے۔  اسی طرح توانائی سے متعلق پائیدار ترقیاتی اہداف کے منصوبوں کے لیے بھی اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ ملک میں صاف اور مؤثر توانائی کے فروغ کو ممکن بنایا جا سکے۔

تعلیم اور نوجوانوں کی فلاح کے شعبے میں بھی اہم فیصلے کیے گئے۔ دانش اسکولوں کے قیام اور یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے خاطر خواہ فنڈز کی منظوری دی گئی، جسے حکومت نوجوان نسل کو ہنرمند بنانے اور معیاری تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سندھ اور خیبرپختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی اضافی وسائل فراہم کیے گئے تاکہ پسماندہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔

اجلاس میں سیاحت کے فروغ، سیکورٹی اداروں کی ضروریات اور دیگر انتظامی امور کے لیے بھی فنڈز منظور کیے گئے۔ پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے لیے مالی معاونت، فرنٹیئر کور اور رینجرز کے ہیلی کاپٹروں کی مرمت، اراکین پارلیمنٹ کے لیے اضافی رہائشی سہولیات اور کنگ حمد نرسنگ یونیورسٹی کے لیے مختص رقوم بھی ایجنڈے کا حصہ رہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے