لاہور: مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک اس وقت شدید سیاسی تناؤ کا شکار ہے اور اس صورتحال سے نکلنے کے لیے سنجیدہ مکالمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کے لیے کوئی سیاسی ضمانت دینے کو تیار نہیں، لہٰذا اب نواز شریف کو بطور سینئر ترین سیاسی رہنما اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ سیاسی دباؤ اور محاذ آرائی میں کمی لائی جا سکے۔
خواجہ رفیق شہید کی برسی کے موقع پر ایوانِ اقبال میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ طاقت کے ذریعے ریاست کو مستحکم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے قیام کے بعد ہی طاقتور طبقات نے سیاست پر اثرانداز ہونا شروع کیا، طاقت کا استعمال ریاست کو آگے لے کر نہیں جاسکتا، یہاں پاکستان بنتے ہی فوجی جرنیلوں جاگیرداروں کا گٹھ جوڑ بن گیا، پاکستان بنانے والوں کو ملک دشمن غدار کہا گیا، آئین کو پامال کرنے والوں کو سلیوٹ مارے گئے،آئین توڑنے والوں کو تحفظ ملا جبکہ جمہوری قوتوں کو غدار قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر منتخب وزرائے اعظم کو غدار کہا جائے تو پھر جمہوریت کا تصور ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق جمہوریت پاکستانی قوم کے مزاج میں شامل ہے اور یہ قوم کبھی اس سے مایوس نہیں ہوئی، اسی لیے وہ خود کو نظریاتی طور پر مسلم لیگی سمجھتے ہیں۔
خواجہ سعد رفیق نے ذاتی سیاسی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قید سے رہائی کے بعد انہوں نے واضح اعلان کیا تھا کہ وہ انتقام کی سیاست نہیں کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی حلقے کی تقسیم اور سیاسی دباؤ کے باوجود انہوں نے حالات کو قبول کیا کیونکہ وہ ووٹ کے تقدس کو کمزور نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں تحریک انصاف کی حکومت نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو شدید نشانہ بنایا، مگر اس کے باوجود وہ کسی سیاست دان کو سزا ملنے پر خوش نہیں ہوتے۔ ان کے بقول، بعض مواقع پر سیاسی مفادات کو قربان کر کے ریاست کو بچانے کی کوشش کی گئی۔
پنجاب کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت بڑے اور تاریخی اقدامات کر رہی ہے، تاہم سیاسی نفرت نے پنجاب کو تنقید کی علامت بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باہمی لڑائیوں میں قوم کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی قوتیں پاکستان کے نام پر اکٹھی ہوں۔
خواجہ سعد رفیق نے زور دیا کہ سیاست دانوں کو ایک دوسرے سے بات کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق عمران خان نے کئی سیاسی مواقع پر غلط فیصلے کیے، بات چیت کی کوششیں کی گئیں مگر انہیں تسلیم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف پارلیمانی اپوزیشن کا راستہ اختیار کرتی تو نہ 9 مئی جیسے واقعات ہوتے اور نہ موجودہ بحران جنم لیتا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب ایک نئے سیاسی معاہدے اور تازہ میثاقِ جمہوریت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق جب سیاسی قیادت سنجیدگی سے مذاکرات کرے گی تو ریاستی ادارے بھی اس عمل کی حمایت کریں گے، اور یہی راستہ ملک کو آگے لے جا سکتا ہے۔
