واشنگٹن ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک تفصیلی اور تجزیاتی مضمون میں 2025 کو پاک امریکا تعلقات کے لیے فیصلہ کن اور انقلابی سال قرار دیا گیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق مضمون میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران واشنگٹن کی جنوبی ایشیا پالیسی میں ایسی غیر متوقع تبدیلیاں رونما ہوئیں جنہوں نے دہائیوں سے قائم ترجیحات کو ازسرنو ترتیب دے دیا۔ مضمون کے مطابق وہ پاکستان جسے ایک عرصے تک واشنگٹن میں ناپسندیدہ یا ثانوی حیثیت حاصل رہی، تیزی سے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار اور اسٹریٹجک ستون کے طور پر ابھرا ہے اور اس تبدیلی کی رفتار کو امریکی خارجہ پالیسی میں ایک نایاب مثال قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ابتدا میں ٹرمپ انتظامیہ کے ذہن میں بھارت کو کواڈ اور دیگر علاقائی فورمز کے ذریعے مرکزی حیثیت دینے اور اسلام آباد کو پس منظر میں رکھنے کی سوچ غالب تھی، تاہم وقت کے ساتھ بھارت کے اندرونی سیاسی حالات، شخصی آزادیوں پر قدغنیں، عسکری کارکردگی میں عدم توازن اور سخت سفارتی رویے نے اسے ایک مستحکم علاقائی کردار کے طور پر مشکوک بنا دیا۔
اس کے برعکس پاکستان کے ساتھ محدود مگر بامعنی خفیہ کاؤنٹر ٹیررازم تعاون نے واشنگٹن کو اسلام آباد کی سنجیدگی اور عملی افادیت کا واضح پیغام دیا، جس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں پہلا پگھلاؤ پیدا ہوا۔
واشنگٹن ٹائمز کے مطابق مارچ میں صدر ٹرمپ کے قومی خطاب میں پاکستان کی غیر متوقع تعریف نے پالیسی حلقوں میں سوچ کا دھارا بدل دیا۔ اسلام آباد نے اس موقع کو تیزی سے کیش کیا اور ہر محدود تعاون کو غیر متوقع سفارتی کریڈٹ میں تبدیل کرتا چلا گیا، نتیجتاً انگیجمنٹ میں اضافہ ہوا اور تعلقات رفتہ رفتہ ٹرانزیکشنل سطح سے نکل کر اسٹریٹجک نوعیت اختیار کرتے گئے۔
مضمون میں واضح کیا گیا ہے کہ پاک امریکا تعلقات میں اصل فیصلہ کن موڑ مئی میں ہونے والی مختصر مگر شدید پاک بھارت جھڑپ ثابت ہوئی۔
اس جھڑپ کے دوران پاکستان کی عسکری کارکردگی نے صدر ٹرمپ کو حیران کر دیا، جہاں پاکستانی افواج کے نظم و ضبط، اسٹریٹجک فوکس اور ایسِمٹرک صلاحیتوں کو امریکی توقعات سے کہیں بڑھ کر قرار دیا گیا۔
مضمون کے مطانق اسی لمحے واشنگٹن میں پاکستان کو دوبارہ ایک سنجیدہ علاقائی ایکٹر کے طور پر دیکھا جانے لگا اور مئی کے بعد ٹرمپ کے لیے جنوبی ایشیا کا اسٹریٹجک نقشہ عملاً ری ڈرا ہو گیا۔ مضمون کے مطابق پاکستان کو اب خطے کے ویژن کو اینکر کرنے والا ایک ابھرتا ہوا اثاثہ تصور کیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن ٹائمز میں پاکستان کی ملٹری ماڈرنائزیشن، کمانڈ اسٹرکچر میں اوورہال اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کو فعال بنانے کو نئی عالمی اہمیت کے حامل اقدامات قرار دیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو نمایاں طور پر سراہا گیا، جنہیں نہ صرف آرمی چیف بلکہ نئے دفاعی ڈھانچے کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔
مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیزفائر پر بھارت کے سرد ردعمل کے برعکس پاکستان نے امریکی ثالثی کو قدر اور شکرگزاری سے قبول کیا، جو ٹرمپ کے لیے ایک مثبت اشارہ ثابت ہوا۔
رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صدر ٹرمپ کے اندرونی حلقے میں ایک نمایاں شخصیت کے طور پر ابھرے۔ انہیں Disciplined Dark Horse اور Deliberate Mystery جیسے القابات سے بھی نوازا گیا جب کہ وائٹ ہاؤس میں لنچ میٹنگ اور سینٹ کام ہیڈکوارٹرز میں ریڈ کارپٹ استقبال کو کسی پاکستانی عسکری سربراہ کے لیے غیر معمولی مثال کہا گیا ہے۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ 2026 کے آغاز پر پاکستان کو ٹرمپ کی گرینڈ اسٹریٹیجی کے مرکز کے قریب دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایران تک خفیہ اور قابلِ اعتبار چینلز، غزہ کے تناظر میں ممکنہ کردار اور خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو نمایاں کیا گیا ہے۔
واشنگٹن ٹائمز کے مطابق واشنگٹن میں ’’نڈیا فرسٹ‘‘ کا دور عملاً ختم ہو چکا ہے، تاہم نئی امریکی پالیسی کی پائیداری دہلی اور اسلام آباد کے آئندہ رویوں سے مشروط رہے گی۔ مجموعی طور پر مضمون یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ 2025 میں امریکی پالیسی اور جنوبی ایشیا کے توازن کو ازسرنو لکھنے میں پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مرکزی کردار ادا کیا۔
