تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا اختیار محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو سونپا گیا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ محمود اچکزئی کا مؤقف درست ہے کہ جس نے چوری کی ہو اس سے بات کیسے کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پورے نظام نے مل کر عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا، اگر اس حقیقت کو مان لیا جائے تو پھر شفاف انتخابات کی جانب پیش رفت ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی واضح کرچکے ہیں کہ مذاکرات پی ٹی آئی نہیں بلکہ اپوزیشن اتحاد کرے گا۔ اگر مبینہ چوری تسلیم کیے بغیر بات کرنی ہے تو پھر کسی اور کو تلاش کیا جائے۔ سلمان اکرم راجہ نے سوال اٹھایا کہ جب مقدمات قائم ہوں اور ملاقاتوں کی اجازت نہ دی جائے تو مذاکرات کیسے ممکن ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ علیمہ خان کے مذاکرات سے متعلق بیان پر وہ تبصرہ نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر محمود اچکزئی کے پاس مینڈیٹ ہے تو وہ مذاکرات کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے حال ہی میں کہا تھا کہ جو لوگ مذاکرات کی بات کر رہے ہیں وہ بانی پی ٹی آئی کے مؤقف کے ساتھ نہیں ہیں۔
