English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

غزہ امن عمل: امریکی عہدیداروں اور نیتن یاہو میں کشیدگی بڑھنے لگی

القمر

واشنگٹن: غزہ امن عمل کے حوالے سے امریکی عہدے داروں اور صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان کشیدگی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صہیونی ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ذرائع کے حوالے سے رپورٹ  میں بتایا گیا ہے کہ نیتن یاہو کو وائٹ ہاؤس کے قریبی اور بااثر حلقے کی حمایت کمزور ہو چکی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ نیتن یاہو کی پالیسیاں غزہ میں امن کے عمل میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے معاونین میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے جن میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدارتی مشیر جیرڈ کشنر، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو جان بوجھ کر امن عمل کو سست کر رہے ہیں اور غزہ میں جنگ بندی کے نازک مرحلے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نیتن یاہو اپنے اتحادیوں کی حمایت مکمل طور پر کھو چکے ہیں اور اب صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی ان کی ذاتی سطح پر پشت پناہی کر رہے ہیں حالانکہ صدر ٹرمپ غزہ کے معاملے میں فوری پیش رفت چاہتے ہیں۔

اختلافات کا مرکز اسٹریٹجک امور، خاص طور پر اسلحہ چھیننے کے منصوبے اور فلسطینی ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام سے متعلق ہیں۔ امریکی ٹیم فوری غیر مسلح کاری اور غزہ کی انتظامیہ کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے، مگر نیتن یاہو اس پر تحفظات رکھتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے بعض اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر بھی ناراضی ظاہر کی، جن میں شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ کچھ نے میدانی کمانڈروں کو طاقت کے استعمال میں غیر محتاط قرار دیا۔

دوسری جانب نیتن یاہو فلوریڈا کے مار اے لاگو ریزورٹ میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ وائٹ ہاؤس کے معاونین کے دباؤ کے بغیر اپنے مؤقف پر صدر کو قائل کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے