English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت کیلیے 2025ء ناکام ترین سال: امریکا، خطے اور عالمی منظرنامے پر بدترین ہزیمت

القمر

2025ء کا سال بھارتی خارجہ پالیسی کے لیے شدید مشکلات، ناکامیوں اور عالمی سطح پر سفارتی سبکیوں کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بھارتی اخبار دی ہندو نے سال کے اختتام پر شائع ہونے والے تجزیے میں اعتراف کیا ہے کہ نریندر مودی حکومت سے وابستہ وہ توقعات، جنہیں عالمی قیادت، علاقائی اثرورسوخ اور اسٹریٹجک طاقت کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔ اخبار نے 2025ء کو بھارتی خارجہ پالیسی کے لیے ’’وعدوں کے بکھرنے‘‘ کا سال قرار دیا ہے۔

دی ہندو کے مطابق بھارتی سفارت کاری زیادہ تر علامتی اقدامات، ذاتی تعلقات اور بیانیہ سازی تک محدود رہی، جو حقیقی معاشی، عسکری اور سفارتی طاقت کا متبادل ثابت نہ ہو سکی۔

اخبار لکھتا ہے کہ بھارت نے نہ صرف خود سے بلکہ اپنے شراکت دار ممالک سے بھی ایسے وعدے کیے جنہیں پورا کرنے کے لیے اس کے پاس نہ مطلوبہ اثرورسوخ موجود تھا اور نہ ہی عملی قوت۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عالمی سطح پر بھارت کے دعوے کمزور اور اس کی حیثیت محدود ہوتی چلی گئی۔

امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے دی ہندو نے 2025ء کو بھارت کے لیے اس صدی کا مشکل ترین سال قرار دیا ہے۔ 25 فیصد ٹیرف، روسی تیل سے متعلق اضافی پابندیاں اور H-1B ویزا سے متعلق قدغنوں نے واضح کر دیا کہ واشنگٹن کے ساتھ بھارت کی شراکت داری غیر مشروط نہیں بلکہ مفاداتی اور محدود نوعیت کی ہے۔

اخبار کے مطابق 2017ء کے مقابلے میں 2025ء کی امریکی نیشنل سیکورٹی اسٹریٹجی میں بھارت کو کہیں زیادہ محدود کردار تک سمیٹ دیا گیا ہے، جو نئی دہلی کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا ہے۔

چین اور روس کے ساتھ تعلقات کے باب میں بھی دی ہندو نے مایوس کن صورتِ حال کی نشاندہی کی ہے۔ اخبار کے مطابق اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور سفارتی سرگرمیوں کے باوجود لائن آف ایکچول کنٹرول پر کوئی ٹھوس سیکورٹی پیش رفت حاصل نہ ہو سکی۔ سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹیں برقرار رہیں اور بھارت عالمی سطح پر محض علامتی موجودگی تک محدود رہا۔

اسی طرح توانائی کے شعبے میں بھی امریکی دباؤ کے نتیجے میں بھارت کو روسی تیل کے معاملے پر اپنے پہلے سے اختیار کردہ موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا، جو اس کی پالیسی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

دی ہندو نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو بھی سنگین سیکورٹی ناکامی قرار دیا ہے۔ اخبار کے مطابق اس واقعے کے بعد بھارتی عسکری اقدامات کو عالمی سطح پر وہ سفارتی حمایت حاصل نہ ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ مزید یہ کہ عسکری کارروائیوں کے دوران طیاروں کو پہنچنے والے نقصانات پر خاموشی نے بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

علاوہ ازیں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کا اعلان بھی بھارت کے لیے ایک اضافی سفارتی دھچکا ثابت ہوا۔

اخبار کے مطابق بھارتی تجزیہ کار اب پاکستان کی قیادت کو ’’سخت گیر اور منظم صلاحیت رکھنے والی‘‘ ماننے لگے ہیں جب کہ بھارت اور بنگلا دیش کے تعلقات تاریخ کی سب سے کشیدہ سطح تک پہنچ چکے ہیں۔

دی ہندو نے خبردار کیا ہے کہ بھارت ’’وشو گرو‘‘ کے بیانیے سے نکل کر ’’وشو وکٹم‘‘ کی سمت بڑھتا دکھائی دے رہا ہے، اور دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کی روش اصلاحات اور حقیقت پسندانہ پالیسی سازی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے