پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بینظیر بھٹو ویمنز یونیورسٹی کے کانووکیشن کے موقع پر وائس چانسلر کی انگریزی میں تقریر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ آئندہ تمام سرکاری تقریبات میں اردو میں خطاب کیا جائے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور جامعات سمیت تمام سرکاری تقریبات میں اردو کو ترجیح دی جانی چاہیے، اگر آئندہ کسی تقریب میں انگریزی میں تقریر کی گئی تو اس پر سخت ردعمل ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بھی بات کی اور بتایا کہ صوبے میں 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے ہیں، صرف کارروائیوں سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، کسی بھی آپریشن سے قبل قوم کو اعتماد میں لینا ضروری ہے تاکہ عوام کی حمایت اور تعاون حاصل کیا جا سکے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ صوبے کے عوام نے ہمیشہ ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی پاکستان کی حفاظت اور ترقی کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، حکومت صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائے گی اور امن قائم رکھنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
