English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت میں ہندو انتہا پسندی عروج پر: ’جے شری رام‘ نہ کہنے پر مسلمان قتل

القمر

بھارت میں مذہبی انتہا پسندی اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کا ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ریاست اڑیسہ کے شہر بالاسور میں ایک 35 سالہ مسلمان شہری کو مشتعل ہندو ہجوم نے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ایک معمولی تلخ کلامی کے بعد پیش آیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے اور دنیا بھر میں تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ درجنوں افراد پر مشتمل ہجوم کے ہاتھوں میں ڈنڈے، لوہے کے راڈز اور لاٹھیاں موجود ہیں اور وہ مسلمان شخص پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ مذہبی نعرہ ’جے شری رام‘ لگائے۔ انکار پر ہجوم نے اسے گھیر کر شدید تشدد شروع کر دیا۔ تشدد کے دوران متاثرہ شخص کے سر پر گہری چوٹیں آئیں اور وہ بری طرح زخمی ہو گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق جب زخمی شخص کا کافی خون بہنے لگا تو حملہ آوروں نے اسے مردہ سمجھ کر سڑک پر ہی چھوڑ دیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔ بعد ازاں مقامی افراد نے زخمی کو نیم مردہ حالت میں اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دورانِ علاج دم توڑ گیا۔

انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پولیس نے ابتدائی طور پر مقتول کے خلاف ہی گائے بچاؤ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر دیا، جس پر شدید تنقید سامنے آئی۔

واقعے کی ویڈیو سویڈن کی ایک یونیورسٹی سے وابستہ معروف پروفیسر اشوک سوائین نے سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس کے بعد عالمی سطح پر دباؤ بڑھا۔ بعد ازاں مقتول کے بھائی کی درخواست پر قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی، تاہم تاحال ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔

یہ واقعہ ایک بار پھر مودی دور میں بھارت میں اقلیتوں کی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے، جہاں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی اور دلت بھی بڑھتے ہوئے تشدد اور نفرت کا سامنا کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے