واشنگٹن: امریکا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے غیر انسانی رویے کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے، جس میں ایک جسمانی طور پر معذور خاتون عالیہ رحمان کو فیڈرل ایجنٹس نے بدترین سلوک کا نشانہ بنایا۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ واقعہ امریکی ریاست منی سوٹا میں پیش آیا، جہاں نقاب پوش اہلکاروں نے خاتون کو زبردستی گاڑی سے باہر نکالا اور گھسیٹتے ہوئے حراست میں لے لیا۔
عالیہ رحمان امریکا میں پیدا ہوئیں اور ایک سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر کام کرتی ہیں۔ انہوں نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ وہ ٹریومیٹک برین انجری کے علاج کے لیے ایک طبی مرکز جا رہی تھیں جب فیڈرل ایجنٹس نے ان کی گاڑی روک لی۔ انہوں نے اہلکاروں کو بارہا اپنی معذوری اور طبی اپائنٹمنٹ کے بارے میں آگاہ کیا، تاہم اس کے باوجود ان کے ساتھ انتہائی سخت اور غیر انسانی سلوک کیا گیا۔
عالیہ رحمان کا کہنا ہے کہ انہیں زبردستی گاڑی سے باہر گھسیٹا گیا، جس کے باعث انہیں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ زندہ بچ گئیں، کیونکہ چند روز قبل اسی علاقے میں ایک اور خاتون پولیس فائرنگ سے ہلاک ہو چکی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں علاج کے بجائے براہِ راست حراستی مرکز منتقل کیا گیا جہاں شدید دباؤ اور خوف کے باعث وہ بے ہوش ہو گئیں۔
بعد ازاں انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں طبی امداد فراہم کی گئی۔ عالیہ رحمان نے کہا کہ وہ مزاحمت سے گریزاں رہیں کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ کہیں ان کے ساتھ بھی جان لیوا سلوک نہ کیا جائے۔
یاد رہے کہ اسی علاقے میں چند روز قبل 37 سالہ رینی نکول گُڈ فیڈرل ایجنٹس کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئی تھیں، جس کے بعد امریکا میں پولیس کے طاقت کے بے جا استعمال پر شدید بحث جاری ہے۔
