تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حالیہ بغاوت کے تناظر میں امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ ایران پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اپنے بیان میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے دعویٰ کیا کہ ملک میں پرتشدد مظاہروں اور اس بغاوت کے پیچھے امریکی سازش کار تھے اور اس کے نتیجے میں ملک کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سازش میں براہِ راست ملوث تھے اور ایران میں ہونے والے فتنہ انگیز اقدامات کو ہوا دینے والے عناصر کی حمایت کی، امریکہ ایران کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کو برداشت نہیں کر پا رہا، اسی وجہ سے مختلف منصوبے اور سازشیں ترتیب دی جا رہی ہیں تاکہ ملک کے استحکام کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے زور دے کر کہا کہ ایرانی عوام نے امریکی سازش کو ناکام بنایا اور مستقبل میں بھی ملک کے شہری اور حکومت مل کر فتنہ پھیلانے والے عناصر کو شکست دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے تاکہ بیرونی طاقتیں ملک میں بدامنی پھیلانے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔
سپریم لیڈر کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران میں حکومت اور عوام کی طرف سے بیرونی سازشوں کے خلاف ایک متحد اور مستحکم موقف اختیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد ملک کی سیاسی، اقتصادی اور سائنسی ترقی کو بلا تعطل آگے بڑھانا ہے۔
