اسلام آباد ہائی کورٹ میں اسلام آباد کے لیبر افسر کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے کیس کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔ سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار کی تیاری نہ ہونے اور اپنی ہی درخواست سے لاعلمی پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔
عدالت میں سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست گزار سے سوال کیا کہ اس نے یہ درخواست کس کے کہنے پر دائر کی ہے اور کیا وہ اس افسر کے بارے میں جانتا ہے جس کے خلاف درخواست دی گئی ہے، حیرت کی بات ہے کہ درخواست گزار کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کس عہدے کے خلاف عدالت آیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے وضاحت دینے کی کوشش کی تاہم جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل کو روکتے ہوئے کہا کہ وہ خود درخواست گزار سے بات کرنا چاہتے ہیں، پھر پوچھا کہ درخواست کس کے کہنے پر دائر کی گئی، جس پر درخواست گزار نے جواب دیا کہ اس نے خود درخواست دائر کی ہے۔
اس جواب پر جسٹس محسن اختر کیانی مزید برہم ہو گئے اور ریمارکس دیے کہ جس افسر کے خلاف درخواست دائر کی گئی ہے، اس کے عہدے کا بھی علم نہیں، عدالت میں اس طرح کا رویہ برداشت نہیں کیا جا سکتا اور جھوٹ بولنے کے نتائج ہوتے ہیں، کیا کسی نے پیسے دے کر یا پیغام بھیج کر درخواست دلوائی ہے اور متعلقہ شخص یا ادارے کا نام بتایا جائے۔
عدالت نے نائب کورٹ کو ہدایت کی کہ درخواست گزار کو عدالت میں بٹھایا جائے۔ بعد ازاں تمام مقدمات نمٹنے کے بعد درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ درخواست گزار کو جانے کی اجازت دی جائے، درخواست گزار آزاد شہری ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اکثر ایسے کیسز میں اصل فریق سامنے نہیں آتا اور کمزور لوگوں کو آگے کر دیا جاتا ہے۔ عدالت نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے کیسز آ چکے ہیں جن میں غیر متعلقہ افراد نے اہم تعیناتیوں کو چیلنج کیا۔
آخر میں عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد لیبر افسر کی تعیناتی کے خلاف درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
