مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی قابض حکام نے ایک اور سنگین اقدام کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کے ادارے انروا کے ہیڈکوارٹر کو منہدم کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی مقبوضہ مشرقی یروشلم کے حساس علاقے شیخ جراح میں کی گئی، جو پہلے ہی فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور غیر قانونی یہودی بستیوں کے باعث تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی بلڈوزرز منگل کی صبح اچانک انروا کے کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے، جہاں موجود سیکورٹی اہلکاروں کو زبردستی باہر نکالا گیا اور بغیر کسی عدالتی کارروائی کے عمارتوں کو مسمار کرنا شروع کر دیا گیا۔ چند ہی گھنٹوں میں اقوام متحدہ کے اس اہم ادارے کا ہیڈکوارٹر ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا جب کہ موقع پر اسرائیلی پرچم لہرا دیا گیا۔
انروا کے ترجمان جوناتھن فاؤلر نے اس اقدام کو اقوام متحدہ پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی نہ صرف یو این چارٹر بلکہ بین الاقوامی قانون اور سفارتی استثنا کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آج ایک عالمی ادارے کو اس طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے تو کل کسی بھی سفارتی مشن یا بین الاقوامی تنظیم کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے، جو عالمی نظام کے لیے خطرناک مثال ہے۔
مغربی کنارے میں انروا کے ڈائریکٹر رولینڈ فریڈرک نے بھی اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جس کا اصل مقصد فلسطینی زمین پر قبضہ کر کے وہاں غیر قانونی یہودی آبادیاں تعمیر کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی حکام ماضی میں بھی اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ شیخ جراح اور مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کو بے دخل کر کے آبادی کا تناسب تبدیل کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی انتہاپسند وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے موقع پر جا کر اس کارروائی کی حمایت کی اور دعویٰ کیا کہ یہ عمارت مبینہ طور پر دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کے زیر استعمال تھی، تاہم انروا اور فلسطینی حکام نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ دہائیوں سے فلسطینی مہاجرین کو تعلیم، صحت اور امدادی خدمات فراہم کر رہا ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ کمپاؤنڈ اسرائیلی ملکیت ہے اور انروا کو وہاں کسی قسم کا استثنا حاصل نہیں، مگر اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ عمارت یو این کی ملکیت ہے اور چاہے وہ فی الحال استعمال میں نہ بھی ہو، بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل تحفظ کی حقدار ہے۔
