کوٹ مومن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے وادی تیراہ سے متعلق خیبرپختونخوا حکومت کے مؤقف کو غلط بیانی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں بلکہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر معمول کے سیکیورٹی آپریشنز جاری رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے وادی تیراہ کے حوالے سے پھیلائے گئے جھوٹے پروپیگنڈے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے اور واضح کیا کہ علاقے سے انخلا کو فوج سے جوڑنا حقائق کے منافی ہے۔ عطا تارڑ کے مطابق رضاکارانہ طور پر نقل مکانی کرنے والے متاثرین کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ وادی تیراہ کو خالی کرانے سے متعلق غلط اور گمراہ کن خبریں جان بوجھ کر پھیلائی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو احتجاجی سیاست کے بجائے صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینی چاہیے۔
عطا تارڑ نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ فرانزک لیبارٹری کے قیام اور عوامی فلاحی منصوبوں کے آغاز کو ترجیح دے، کیونکہ احتجاج کی مسلسل کالز سے عوام اکتا چکے ہیں۔
