سوات : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں جاری آپریشن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ دو سے تین دن میں آپریشن بند نہ کیا گیا تو صوبائی حکومت نئی حکمتِ عملی اختیار کرنے پر مجبور ہوگی۔
سوات کے علاقے مینگورہ میں پاکستان تحریک انصاف کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ تیراہ کے عوام کو نقل مکانی کا براہِ راست حکم نہیں دیا گیا، جس سے صورتحال مزید ابہام کا شکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیراہ کے عوام کسی خوشی کی تقریب میں شرکت کے لیے نہیں نکلے بلکہ انہیں حالات کے باعث گھروں سے بے دخل ہونا پڑا۔
سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ جب سیاسی طور پر شکست نہ دی جا سکی تو دہشت گردی کے الزامات لگا کر لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ ان کے مطابق ایک 24 رکنی کمیٹی کو دباؤ میں لا کر آپریشن کی راہ ہموار کی گئی۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ نہ فوج کے مخالف ہیں اور نہ ہی ریاستی اداروں کے، تاہم سیاست میں مداخلت کرنے والوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ماضی میں فوجی جوانوں کے جنازوں میں شریک ہوتے رہے ہیں لیکن اب انہیں ایسے مواقع پر مدعو نہیں کیا جاتا۔
عمران خان کی رہائی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس بار مکمل تیاری کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کیا جائے گا اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر صوبائی حکومت اور اداروں کے درمیان تصادم پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
