ماسکو: رواں برس کم از کم 40 ہزار بھارتی شہری مزدوروں کی حیثیت سے روس آئیں گے۔
حال ہی میں یہ اعلان روسی خبر رساں ادارے ‘ریا نووستی’ سے بات چیت میں روس کے پائیدار ترقی کے شعبے میں بین الاقوامی تنظیموں سے تعلقات کے خصوصی نمائندے بورس تیتوف نے کیا۔
ماسکو میں بھارت کے سفیر ونئے کمار نے بھی اسی ایجنسی سے بات چیت کی، جن کے مطابق 2025 کے اختتام تک 70 سے 80 ہزار بھارتی شہری پہلے سے ہی روس میں کام کر رہے تھے۔
بھارت سے روس کی جانب یہ نقل مکانی دسمبر 2025 میں نئی دہلی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران طے پانے والے افرادی قوت کی نقل و حرکت کے معاہدے سے جڑی ہے۔
اس دستاویز کے تحت 2026 کے لیے 70 ہزار سے زائد بھارتی شہریوں کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔
ڈی ڈبلیو کی تحقیق کے مطابق سرحدی اعداد و شمار سے عیاں ہوتا ہے کہ روس میں داخل ہونے والے بھارتی شہریوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اس کے مطابق 2025 کی پہلی سہ ماہی میں تقریباً 32 ہزار اور دوسری سہ ماہی میں 36 ہزار افراد نے سرحد عبور کی، جبکہ تیسری سہ ماہی میں یہ تعداد بڑھ کر 63 ہزار تک پہنچ گئی۔
کام کرنے والے ایسے بھارتی کارکنوں کی بھرتی سرکاری اور ایسی غیر سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے کی جاتی ہے، جو اس بات کی ذمہ دار ہوتی ہیں کہ بھارت سے آنے والوں کو ان کی آئندہ ملازمتوں کے بارے میں مکمل اور درست معلومات فراہم کی جائیں۔
روس میں کم ہنر مند بھارتی کارکنوں کی ماہانہ اجرت پانچ سو سے 1,111 امریکی ڈالر کے درمیان ہوتی ہے۔ یہ بھارت میں ملنے والی آمدن سے کہیں زیادہ ہے۔
دسمبر میں روسی میڈیا ادارے فونتانکا نے سینٹ پیٹرزبرگ کی سڑکوں کی صفائی کرنے والے بھارتی کارکنوں کے ایک متنوع گروہ پر رپورٹ شائع کی تھی۔
ان کارکنوں کے مطابق انہیں تقریباً 100 ہزار روبل یعنی 1,316 ڈالر ماہانہ تنخواہ ملتی ہے اور اس کے ساتھ ہی مفت رہائش، کھانا اور روسی زبان کے کورسز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔
شہر کی انتظامیہ کے مطابق تقریباً تین ہزار بھارتی شہری روزگار کی تلاش میں سینٹ پیٹرزبرگ آئے ہیں۔
ایک بھارتی سفارت کار نے، دوطرفہ تعلقات کی نزاکت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ لیبر معاہدہ بھارت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔
انہوں نے کہا، ”روس کو مزدوروں کی ضرورت ہے، اور بھارت کو بے روزگاری برآمد کرنی ہے۔
