عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان میں بجلی اور گیس کی سبسڈی کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے منسلک کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد سبسڈی کے نظام کو زیادہ شفاف، مؤثر اور مستحق طبقے تک محدود بنانا ہے۔
یہ بات عالمی بینک کی جانب سے جنوبی ایشیا میں ترقی کے موضوع پر جاری کردہ تازہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کے ٹیکس نظام میں بہتری اور ٹیکس بیس میں اضافے پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ریونیو میں اضافے کے لیے آلودگی کی حوصلہ شکنی جیسے اقدامات بھی ضروری ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی کے شعبے میں بڑے مالی دباؤ کا شکار ہے اور غیر ہدفی سبسڈیز سرکلر ڈیٹ اور مالی خسارے میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔
عالمی بینک نے نشاندہی کی ہے کہ جنوبی ایشیا میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ناقص آبپاشی نظام اور غیر مؤثر زرعی طریقوں کے باعث قیمتی آبی وسائل ضائع ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں جدید آبپاشی منصوبوں کے نتیجے میں 57 فیصد پانی کی بچت ممکن ہوئی ہے جب کہ جدید زرعی طریقوں سے فصلوں کی پیداوار میں 14 سے 31 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ عالمی بینک کے مطابق ایسی اصلاحات کو ملک بھر میں فروغ دیا جانا چاہیے۔
توانائی کے شعبے سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی اور گیس کی سبسڈی کو بی آئی ایس پی سے منسلک کرنے سے غلط تقسیم، مالی نقصان اور سرکلر ڈیٹ میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی کو سماجی تحفظ کے پروگراموں پر خرچ کیا جا سکتا ہے تاکہ حقیقی مستحقین کو فائدہ پہنچ سکے۔
عالمی بینک نے یہ بھی بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ چھوٹے کاروباروں کے لیے کلائمٹ رسک فیسلٹی قائم کی جا رہی ہے جب کہ بی آئی ایس پی کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ شفافیت اور رسائی میں اضافہ ہو۔
