English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

 یورپی یونین:بھارت تجارتی معاہدہ پاکستان کی صنعتوں کے لیے بڑا خطرہ

القمر

اسلام آباد:سابق نگراں وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے یورپی یونین اور بھارت کے درمیان طے پانے والے حالیہ تجارتی معاہدے کو پاکستان کی صنعتوں کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہےکہ  اس معاہدے سے پاکستان کی تقریباً 9 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس متاثر ہو سکتی ہیں اور ایک کروڑ افراد کا روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو دیا جانے والا  ہنی مون پیریڈ  ختم ہو چکا ہے اور اب پاکستان سمیت تمام علاقائی ممالک پر زیرو ٹیرف کا اطلاق ہوگا جبکہ اس سے پہلے صرف پاکستان کو یہ سہولت حاصل تھی، حکومت کو فوری طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری بچانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے، جس میں صنعتوں کو علاقائی نرخوں پر بجلی اور گیس فراہم کرنا شامل ہے۔

سابق وزیر نے مزید مطالبہ کیا کہ صنعتی شعبوں پر ٹیکس کی شرح ہمسایہ ممالک کے برابر کی جائے اور کاروباری لاگت کو بھی ان کے برابر کیا جائے، کیونکہ ملکی صنعتیں نظام کی ناکامیوں کا اضافی بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں۔

دوسری جانب بھارت اور یورپی یونین نے اس معاہدے کو  مدر آف آل ڈیلز  قرار دیا ہے، اس معاہدے کے تحت یورپی برآمدات کے تقریباً 97 فیصد پر ٹیرف کم یا ختم کر دیے جائیں گے، جس سے سالانہ تقریباً 4 ارب یورو تک ڈیوٹی کی بچت ممکن ہوگی۔

یورپی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بھارت کا سب سے جامع تجارتی معاہدہ ہے، جس سے یورپ کے زرعی، آٹو موبائل اور خدمات کے شعبوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ اس معاہدے میں سکیورٹی شراکت داری بھی شامل ہے، جس سے دفاعی صنعتوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے مطابق اس معاہدے سے بھارت کے ٹیکسٹائل، قیمتی پتھروں اور زیورات، چمڑے کی مصنوعات اور خدمات کے شعبے کو فروغ ملے گا، جبکہ بھارت کی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔

گوہر اعجاز نے خبردار کیا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو فوری تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو ملکی برآمدات اور روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، جس سے معیشت پر بھی دباؤ بڑھے گا۔

  • ویب ڈیسک
  • وہاج فاروقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے