حیدر آباد:صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد کی ایک عدالت نے سندھی زبان کے نامور شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل میں ان کے گود لیے ہوئے بیٹے شاہ لطیف کو سزائے موت سنائی ہے۔
حیدرآباد میں یہ قتل 15 فروری 2025 کی رات کو ہوا تھا۔ ڈاکٹر آکاش کی جھلسی ہوئی لاش ان کے فلیٹ سے ملی تھی اور ان کے بیٹے کا موقف تھا کہ یہ موت گھر میں آتشزدگی کی وجہ سے ہوئی تھی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر آکاش کے جسم پر 12 گہرے زخم پائے گئے جو گردن، سینے، پیٹ اور رانوں پر تھے۔
ان میں سے کئی زخم اتنے گہرے تھے کہ پھیپھڑوں اور دیگر اعضا کو شدید نقصان پہنچا جس کی وجہ سے خون بہت زیادہ بہہ گیا اور ان کی موت واقع ہو گئی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم نے ثبوت چھپانے کے لیے لاش اور بستر پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔
اس کے بعد اس نے کمرے کو تالا لگا دیا اور شور مچایا تاکہ یہ ایک حادثاتی آگ لگنے کا واقعہ معلوم ہو۔
بی بی سی کے مطابق فیصلے میں بتایا گیا کہ جب ڈرائیور اور دیگر لوگ آگ بجھانے پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ ملزم آگ بجھانے میں مدد نہیں کر رہا تھا بلکہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا، جس کے بعد ملزم شاہ کو گرفتار کیا گیا۔
ملزم نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے ہی والد کو قتل کیا ہے۔
ان کی نشاندہی پر پولیس نے قتل میں استعمال ہونے والی چھری اور خون آلود کپڑے برآمد کیے تھے۔
تحریری فیصلے کے مطابق استغاثہ نے ثابت کیا کہ باپ اور بیٹے کے درمیان تعلقات بیٹے کی منشیات کی لت کی وجہ سے خراب تھے جبکہ ملزم جائیداد اور پیسوں کا مطالبہ کرتا تھا۔
2024 میں ڈاکٹر آکاش نے اپنے بیٹے کے خلاف تقریباً 38 لاکھ روپے کی چوری کا مقدمہ بھی درج کروایا تھا جس کی وجہ سے ملزم غصے میں تھا۔
فروری 2015 کے دوران حیدرآباد کے ایس ایس پی فرخ لنجار نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ شاہ لطیف نے (مبینہ طور پر) اپنے والد آکاش انصاری کو چھری مار کر قتل کیا اور اس کے بعد اس قتل کو حادثے کی شکل دینے کے لیے جسم کو آگ لگادی۔
ابتدائی طور پر ان کے بیٹے شاہ لطیف نے دعویٰ کیا تھا کہ بجلی کے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے کمرے میں آگ لگ گئی تھی۔
ایس ایس پی فرخ لنجار کا کہنا ہے کہ ملزم نے انھیں دورانِ تفتیش بتایا کہ ان کے والد انھیں کچھ نہ کرنے اور نااہلی کے طعنے دیتے تھے جس کی وجہ سے وہ ڈاکٹر آکاش انصاری سے ناراض تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ ملزم نے چھری کے وار کر کے اپنے والد کو قتل کیا اور اس کے بعد گھر سے چلا گیا۔ بعد میں گھر واپس آیا اور کوئی آتشی مواد چھڑک کر لاش کو آگ لگا دی۔
ایس ایس پی فرخ لنجار کے مطابق ملزم نے ریسکیو حکام کو تو آتشزدگی کے بارے میں آگاہ کیا لیکن پولیس کو مطلع نہیں کیا اور اسی وجہ سے پولیس کو شاہ لطیف پر شک ہوا۔
ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل کا مقدمہ ان کے پھوپی زاد بھائی ابراہیم انصاری نے حیدرآباد کے بھٹائی نگر تھانے میں انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کروایا تھا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر آکاش انصاری کا کوئی بیٹا نہیں تھا اور انھوں نے شاہ لطیف کو گود لیا تھا، جو بڑا ہو کر نشے کا عادی ہوگیا۔
مقدمے کے مدعی کے مطابق شاہ لطیف نے گذشتہ برس اپنے گھر میں چوری بھی کی تھی جس کا مقدمہ بھٹائی نگر تھانے میں ہی درج کروایا گیا تھا۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ چوری کے مقدمے اور جائیداد کی ملکیت کے تنازع کے سبب شاہ لطیف نے ڈاکٹر آکاش انصاری کو قتل کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔
ڈاکٹر آکاش انصاری کی شاعری جنرل ضیا الحق کے دور میں مقبول ہوئی تھی۔
انھوں نے انقلابی شاعری کے علاوہ رومانوی گیت بھی لکھے تھے جنھیں سندھ کے نامور گلوکاروں نے انھیں گایا ہے۔
