English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مہنگی درآمدی گندم سستے داموں فروخت، قومی خزانے پر اربوں کا بوجھ

القمر

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مہنگی درآمدی گندم کو سبسڈائزڈ نرخوں پر فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو 20.5 ارب سے 22 ارب روپے تک کے ممکنہ مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اہم اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں پاسکو کے گوداموں میں موجود گندم کے بڑے ذخیرے کو ٹھکانے لگانے سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ ای سی سی نے پاسکو کو مجموعی طور پر 5 لاکھ ٹن گندم نیلام کرنے اور حکومت پنجاب کو 3 لاکھ ٹن گندم فراہم کرنے کی اجازت دے دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ نیلام کی جانے والی گندم میں 3 لاکھ ٹن مہنگی درآمدی گندم بھی شامل ہے، جو سبسڈی کے ساتھ فروخت کی جائے گی۔ یہ گندم 2022 میں درآمد کی گئی تھی اور اس وقت سے پاسکو کے گوداموں میں پڑی ہے۔ حکام کے مطابق طویل عرصے سے ذخیرہ ہونے کے باعث اس گندم کی مارکیٹ ویلیو میں مسلسل کمی آ رہی ہے جب کہ ذخیرہ کرنے کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ پاسکو کے پاس اس وقت مجموعی طور پر 20 لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے۔

فنانس ڈویژن نے مقامی گندم کے لیے 4 ہزار 742 روپے فی 40 کلوگرام اور درآمدی گندم کے لیے 6 ہزار 425 روپے فی 40 کلوگرام ریزرو قیمت تجویز کی تھی، تاہم ای سی سی نے ان قیمتوں میں نمایاں کمی کرتے ہوئے مقامی گندم کے لیے 4 ہزار 400 روپے اور درآمدی گندم کے لیے 4 ہزار 70 روپے فی 40 کلوگرام کی منظوری دے دی۔

اس فیصلے کے تحت درآمدی گندم کی فروخت پر فی 40 کلوگرام 2 ہزار 355 روپے تک کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

ای سی سی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ان منظور شدہ نرخوں پر اگر 5 لاکھ ٹن گندم فروخت کی گئی تو مجموعی مالی خسارہ 20.5 ارب سے 22 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے، تاہم یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ اگر یہ گندم مزید ذخیرہ رکھی گئی تو صرف اسٹوریج کی سالانہ لاگت 11 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گی، جس کے باعث حکومت نے نقصان کم کرنے کے لیے فوری فروخت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی کابینہ پہلے ہی پاسکو کو بند کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔

حکومت پنجاب نے وفاقی حکومت سے 3 لاکھ ٹن گندم 3 ہزار 900 روپے فی 40 کلوگرام کے حساب سے فراہم کرنے کی درخواست کی تھی جب کہ پاسکو کے اخراجات 4 ہزار 742 روپے فی 40 کلوگرام بنتے ہیں۔ معاملہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو بھجوایا گیا، جنہوں نے 4 ہزار 150 روپے فی 40 کلوگرام پر فروخت کی اجازت دی، جس پر ای سی سی نے بعد ازاں مہر ثبت کر دی۔ اس فیصلے سے وفاقی حکومت کو پنجاب کو گندم فروخت کرنے پر 4.4 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے