تہران: ایرانی پارلیمنٹ نے یورپی یونین کے ممالک کی افواج کو باضابطہ طور پر دہشت گرد گروہ قرار دے دیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ اقدام یورپی یونین کی جانب سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے اعلان کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے، جس نے ایران اور یورپ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق پارلیمنٹ کے اس اجلاس کے دوران ماحول غیر معمولی طور پر جذباتی تھا۔ ارکانِ پارلیمنٹ نے پاسدارانِ انقلاب سے یکجہتی کے اظہار کے لیے سبز رنگ کی فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں ۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کے فیصلے کو غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی صورت میں اپنی مسلح افواج اور دفاعی اداروں کے خلاف ایسے اقدامات کو قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جوابی قانون کے آرٹیکل 7 کے تحت یورپی ممالک کی افواج کو دہشت گرد گروہ تصور کیا جائے گا۔
قالیباف نے مزید بتایا کہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی اس معاملے پر مزید اقدامات پر غور کر رہی ہے، جن میں ایران میں تعینات یورپی ممالک کے فوجی اتاشیوں کی ممکنہ بے دخلی بھی شامل ہے۔ اس سلسلے میں وزارتِ خارجہ سے مشاورت کی جائے گی تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس فیصلے کے فوری عملی اثرات کیا ہوں گے اور آیا اس کا اطلاق کن یورپی ممالک کی افواج پر ہو گا، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے سفارتی سطح پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
