English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

خامنہ ای کا سخت بیان: ٹرمپ ایران سے معاہدے کے لیے پُرامید

القمر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے سخت اور تنبیہی بیان کے بعد ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے امید کا اظہار کیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سفارتی حل کی گنجائش برقرار دکھائی دیتی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر اس صورتحال کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے اپنے حالیہ خطاب میں خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کی تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے میں اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نہ تو کسی ملک کے خلاف جنگ کا آغاز کرتا ہے اور نہ ہی تصادم چاہتا ہے، تاہم اگر ایرانی قوم کو نشانہ بنایا گیا یا دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی تو اس کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

خامنہ ای نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام ایسے بیانات سے خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں اور ملک کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ ان کے اس بیان کو خطے میں طاقت کے توازن اور ممکنہ تصادم کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی قیادت کے اس مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خامنہ ای کی جانب سے علاقائی جنگ کے خدشات کا اظہار کوئی غیر متوقع بات نہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا سفارت کاری کو موقع دیا جاتا ہے یا نہیں۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پورے خطے کے لیے بہتر ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو پھر یہ دیکھا جائے گا کہ ایران کی جانب سے ظاہر کیے گئے خدشات کس حد تک درست ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی ترجیح یہ ہے کہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہوں، نہ کہ جنگ کے ذریعے۔

واضح رہے کہ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق خطے میں اس وقت متعدد جنگی جہاز، ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور جدید جنگی صلاحیتوں سے لیس بحری یونٹس تعینات ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ فوجی نقل و حرکت ایک طرف دباؤ کی علامت ہے تو دوسری جانب اسے مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے