English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سعودی عرب نے ناقص کارکردگی کی حامل 1800 عمرہ ایجنسیاں معطل کردیں

القمر

ریاض: سعودی عرب کی وزارتِ حج و عمرہ نے خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سخت فیصلہ کرتے ہوئے 1800 غیر ملکی عمرہ ٹریول ایجنسیوں کے معاہدے معطل کر دیے ہیں۔

عرب میڈیا  کے مطابق معطل کی جانے والی ایجنسیاں عمرہ کے شعبے میں سرگرم تقریباً 5800 غیر ملکی ایجنسیوں کا ایک نمایاں حصہ ہیں۔ وزارتِ حج و عمرہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد زائرین کو فراہم کی جانے والی سہولیات کو بہتر بنانا اور ان شکایات کا سدباب کرنا ہے جو گزشتہ کچھ عرصے کے دوران سامنے آ رہی تھیں۔

وزارت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی باقاعدہ اور مرحلہ وار جائزے کے بعد عمل میں لائی گئی۔ اس جائزے کے دوران متعدد ایجنسیوں کی کارکردگی میں سنگین خامیاں پائی گئیں، جن میں زائرین کے لیے رہائش، ٹرانسپورٹ، رہنمائی اور مجموعی انتظامی امور شامل تھے۔

وزارتِ حج و عمرہ کے ترجمان غسان النعیمی کے مطابق متاثرہ ایجنسیوں کو 10 دن کی مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ نشاندہی کی گئی خامیوں کو دور کر سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معطلی فی الحال صرف نئے عمرہ ویزوں کے اجرا تک محدود ہے اور اس کا اطلاق پہلے سے جاری ویزوں یا بکنگ پر نہیں ہوگا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جن زائرین کے ویزے پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں یا جن کے عمرہ پیکیجز پہلے سے بک ہیں، وہ اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے، انہیں تمام سہولیات حسبِ معمول فراہم کی جائیں گی۔ وزارت نے اس حوالے سے زائرین کو مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔

غسان النعیمی کے مطابق وہ ایجنسیاں جو مقررہ مدت کے اندر وزارت کے طے شدہ معیار پر پورا اتریں گی، ان کے معاہدے دوبارہ بحال کر دیے جائیں گے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ جو ایجنسیاں اس مہلت کے باوجود اپنی کارکردگی بہتر بنانے میں ناکام رہیں گی، ان کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

وزارتِ حج و عمرہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں بھی نگرانی اور جانچ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ عمرہ شعبے کی ساکھ کو مضبوط کیا جا سکے اور زائرین کے حقوق کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ سعودی عرب کی اس پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت حرمین شریفین آنے والے زائرین کو اعلیٰ معیار کی سہولیات فراہم کرنا اولین ترجیح ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے