بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو 10 سال اور ان کی بھتیجی ٹیولپ صدیقی کو 4 سال قید کی سنادی گئی ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈھاکا میں خصوصی عدالت نے پورباچل پلاٹ فراڈ سے متعلق درج 2 مقدمات میں بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کو 10 سال قید اور ان کی بھتیجی اور برطانوی رکن پارلیمنٹ ٹیولپ صدیقی کو 4 سال قید کی سزا دی۔
ڈھاکا کی خصوصی عدالت 4 کے جج محمد ربیع العالم نے شیخ حسینہ کی دوسری بھتیجی ازمینہ صدیق اور بھتیجے رادوان مجیب صدیق بابی کو بھی 2 مقدمات میں سے ایک میں 7 سال قید کی سزا سنائی۔
ازمینہ اور بابی سمیت باقی 8 ملزمان پر 1-1 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا، اگر ایسا انھوں نے یہ جرمانہ ادا نہیں کیا تو 6 ماہ مزید جیل میں گزارنے ہونگے۔
فیصلے سے متعلق اے سی سی کے سرکاری وکیل میر احمد علی سلام نے بتایا کہ دوپہر تقریباً 12.20 بجے عدالت نے انھیں سزا کا فیصلہ سنایا،
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اور ان کے 3 اہلخانہ کے علاوہ عدالت نے 2 مقدمات میں 11 دیگر ملزمان کو 10 سال قید اور ایک ملزم کو 2 سال جیل کی سزا سنائی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال 27 نومبر سے یکم دسمبر کے درمیان، شیخ حسینہ کو 4 بدعنوانی کے مقدمات میں 26 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔
شیخ حسینہ کی بیٹی صائمہ واجد اور بیٹے صجیب واجد جوئے، بہن شیخ ریحانہ اور بھتیجی ٹیولپ کو بھی 4-4 مقدمات میں سے ایک میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا، اینٹی کرپشن کمیشن کے دائر ہر مقدمے کی سماعت 15 پیشیوں کے اندر مکمل ہوئی تھی۔
