اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلاب کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر کوئٹہ میں پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں ایرانی قونصل جنرل محمد کریمی تودشکی، سیاسی و مذہبی رہنماؤں، تاجروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب میں ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ایرانی عوام نے متحد ہوکر اندرونی و بیرونی سازشوں کا مقابلہ کیا اور دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔ انہوں نے اسلام آباد اور بلوچستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی دونوں ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے اور ایران و پاکستان اس ناسور کا یکساں شکار ہیں۔
کریمی تودشکی نے واضح کیا کہ ایران اصولی طور پر ہر قسم کی دہشتگردی کی مخالفت کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران خود کو خطے اور عالمی برادری میں ایک ذمہ دار، آزاد اور مؤثر کردار ادا کرنے والا ملک سمجھتا ہے اور ہمیشہ امن، مکالمے، کثیرالجہتی تعاون اور مشترکہ کوششوں کی حمایت کرتا آیا ہے۔
ایران کے آئین کے تحت ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم بعض مواقع پر بیرونی مداخلت نے صورتحال خراب کی۔ ایرانی قونصل جنرل نے الزام عائد کیا کہ جب حکومت مظاہرین سے مذاکرات میں مصروف تھی، تو امریکہ کی مداخلت نے بدامنی کو ہوا دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات کے لیے آمادہ رہا ہے اور قومی مفادات و علاقائی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، جس کا نیا دور 6 فروری 2026 سے شروع ہوچکا ہے۔
پاک ایران تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے کریمی تودشکی نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں مسلسل اضافہ ہوا اور گزشتہ مالی سال میں پہلی بار دوطرفہ تجارت 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو اقتصادی تعاون میں مثبت پیش رفت کا مظہر ہے۔
