English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

احمد آباد طیارہ پائلٹ نے جان بوجھ کر گرایا،تحقیقاتی رپورٹ

القمر

نئی دہلی: بھارتی شہر احمد آباد میں 12 جون 2025 کو پیش آنے والے ایئر انڈیا طیارہ حادثے کی تحقیقات میں ایک نہایت چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق یہ حادثہ کسی تکنیکی خرابی یا مشینی نقص کی وجہ سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر کی گئی کارروائی کا نتیجہ تھا۔بھارتی پائلٹ نے جان بوجھ کر طیارہ گرایا تھا۔

تحقیقات سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ کاک پٹ وائس ریکارڈنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ پائلٹ نے خود انجن کا فیول سوئچ بند کر دیا تھا، جس کے باعث طیارہ مکمل طور پر بے طاقت ہو گیا اور چند ہی لمحوں میں زمین سے ٹکرا گیا۔

اٹلی کے معتبر اخبار Corriere della Sera کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان حالیہ بات چیت سے جڑے دو ذرائع کے مطابق بھارتی تفتیش کار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ حادثہ مکینیکل فیلئر نہیں تھا۔

 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی ایجنسیاں اب حتمی رپورٹ کا مسودہ تیار کر رہی ہیں، تاہم سرکاری رپورٹ جاری ہونے سے پہلے کسی قطعی نتیجے پر پہنچنا جلد بازی ہوگی۔

ایئر انڈیا کا بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارہ احمد آباد ہوائی اڈے سے اڑان بھرنے کے چند ہی سیکنڈ بعد قریب واقع ایک میڈیکل کالج کے ہاسٹل پر جا گرا۔

 اس دلخراش حادثے میں 260 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں مسافر، طلبہ اور عملے کے افراد شامل تھے۔ اس سانحے میں صرف ایک مسافر معجزانہ طور پر زندہ بچ پایا۔

جولائی 2025 میں ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) کی ابتدائی رپورٹ میں کاک پٹ وائس ریکارڈنگ کا حوالہ دیا گیا تھا۔ ریکارڈنگ میں ایک پائلٹ دوسرے سے سوال کرتا ہے کہ تم نے فیول کیوں بند کیا؟ جس پر دوسرا جواب دیتا ہے کہ میں نے ایسا نہیں کیا۔

 تحقیقات کاروں کا ماننا ہے کہ پائلٹس میں سے کسی ایک نے دستی طور پر فیول سوئچ بند کیا، جس سے طیارے کی مکمل پاور ختم ہو گئی اور وہ سیدھا زمین سے ٹکرا گیا۔

 اس وقت کپتان سمیت سبروال پائلٹ ان کمانڈ تھے جبکہ کلائیو کندر معاون پائلٹ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کپتان سمیت سبروال اس معاملے میں مرکزی مشتبہ کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ کچھ رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ذہنی دبائواور ڈپریشن کا شکار تھے۔

  • ویب ڈیسک
  • Faiz alam babar

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے