اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر اپنے مؤکل کی میڈیکل رپورٹس فراہم کرنے اور ذاتی معالجین کو معائنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خط سپریم کورٹ آف پاکستان کو ارسال کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق صورتحال تشویشناک ہو رہی ہے اور اہلخانہ کو مکمل معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
خط کے متن کے مطابق عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم کو فوری معائنے کی اجازت دی جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں الشِفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ مکمل اور شفاف طبی جائزہ لیا جا سکے۔ وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بیماری کے باوجود بنیادی طبی سہولتوں کی عدم فراہمی نہ صرف تشویش ناک ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی منافی ہو سکتی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ عدالت کے حکم پر ہونے والے حالیہ طبی معائنے کے بارے میں اہلخانہ کو آگاہ نہیں کیا گیا، جس سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ خط میں اس دعوے کو بھی مسترد کیا گیا کہ معائنے کے وقت خاندان یا پارٹی رہنماؤں کو بلایا گیا تھا مگر وہ نہیں آئے، ایسا کوئی اطلاع نامہ موصول نہیں ہوا اور نہ ہی اہلخانہ کو شریک ہونے کا موقع دیا گیا۔
خط میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ طبی معاملے میں اہلخانہ کو اعتماد میں نہ لینے سے بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے اور شفافیت یقینی بنانے کے لیے عدالت کی مداخلت ضروری ہے۔ وکیل نے استدعا کی کہ عدالت فوری نوٹس لے کر متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کرے تاکہ میڈیکل رپورٹس جاری کی جائیں اور آزادانہ طبی معائنہ ممکن بنایا جا سکے۔
