English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومت عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے پر رضا مند تھی اور انتظامات مکمل کر لیے گئے تھے: پارٹی ذرائع

القمر

اسلام آباد میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے میں حکومت اور پارٹی قیادت کے درمیان کئی روز تک مذاکرات جاری رہے، تاہم حتمی فیصلے میں اختلافات پیدا ہو گئے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ابتدائی طور پر بانی پارٹی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال میں مکمل علاج کے لیے منتقل کرنے پر راضی تھی جبکہ اپوزیشن کا موقف تھا کہ عمران خان کو کم از کم 10 دن اسپتال میں رکھا جائے۔

رپورٹ کے مطابق پارٹی ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی شرط تھی کہ اسپتال میں علاج کی تفصیلات ظاہر کی جائیں گی، تاہم کارکنوں کو اسپتال میں بلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب منتقلی کے انتظامات مکمل ہو چکے تھے اور عمران خان کے لیے گاڑیاں تیار تھیں، تاہم اہل خانہ اور پارٹی قیادت کے ساتھ ناموں کے انتخاب پر اختلافات پیدا ہوئے۔

ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نے ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر عظمیٰ کے نام دیے، مگر حکومت نے انہیں تسلیم نہیں کیا اور بعد میں ڈاکٹر برکی کا نام پیش کیا، جسے بھی حکومت نے مسترد کر دیا۔ اس پر عمران خان کی بہنیں برہم ہو گئیں اور بعد میں حکومت نے قاسم زمان کا نام دیا، جس پر اہل خانہ نے بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق نام پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے حکومت نے اتوار کی شب اعلان کیا کہ اسپتال منتقلی اب ممکن نہیں۔ اس دوران پارٹی قیادت نے پمز کے ڈاکٹرز سے ملاقات کی اور یقین دہانی کرائی کہ ملاقات کی تفصیلات پبلک نہیں کی جائیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ نہ صرف صحت کی دیکھ بھال سے متعلق تھا بلکہ سیاسی اور انتظامی حساسیت کے باعث پیچیدہ ہو گیا، جس نے بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے عمل کو مؤثر طور پر روک دیا۔

اس سلسلے میں حکومت اور پارٹی قیادت کے درمیان رابطے اور مذاکرات ابھی جاری ہیں تاکہ آئندہ کے لیے کسی متفقہ حکمت عملی پر اتفاق ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے